علم کی ضرورت و اہمیت

قرآن پاک  کے تقریباً 78 ہزار الفاظ میں سب سے پہلا لفظ جو اللہ عزوجل نے سیدی رسول اللہ (ﷺ) کے قلب اقدس پہ نازل فرمایا وہ ’’اِقْرَاْ‘‘ ہے، یعنی پڑھیئے  سیدی رسول اللہ (ﷺ) اپنے ماننے والوں کو ہمیشہ حصول ِ علم کی رغبت اور تلقین فرماتے، غزوہ بدر کے موقع پہ آپ (ﷺ( ہر اس اسیرکو جو مدینہ کے دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھاتا تھا آزاد فرما دیتے تھے-اس عمل سے اسلام اور پیغمبر اسلام (ﷺ) کی نظر میں تعلیم کی اہمیت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔

علم کی فضیلت' قرآن و حدیث کی روشنی میں - ایکسپریس اردو

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ علم کی اپنی بارگاہ ِ اقدس میں فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشادفرمایا

’’يَرْ‌فَعِ اللّٰـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَ‌جَاتٍ ۚ وَاللّٰـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیْرٌ ‘‘[1]

’’اللہ عزوجل تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا اور اللہ عزوجل کو تمہارے کاموں کی خبر ہے‘‘-

ایک اورمقام پہ ارشادفرمایا

كُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ‘‘[2]’’

اللہ والے ہوجاؤ اس سبب سے کہ تم کتاب سکھاتے ہو اور اس سے کہ تم درس کرتے ہو انسان کو ہر صورت میں زندگی بھر علم حاصل کرنے کی جستجو اور تگ ودو کرنی چاہیے علم کی اہمیت اور فضیلت کی تمام مذاہب میں تلقین کی گئی ہے دین اسلام میں علم حاصل کرنے کی بار بار تاکید ہے

 حضرت عبد اﷲ بن عباسؓ سے مرو ی ہے فرماتے ہیں کہ سیدی رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا

’’جب تم جنت کے باغوں میں سے گزرا کروتو دلی مراد حاصل کرلیاکرو،عرض کی ،یاسول اللہ (ﷺ)! جنت کے باغ کیا ہیں؟آپ (ﷺ) نے ارشادفرمایا:’’علم کی مجالس۔

اسلام نے عورتوں کودینی ودنیوی تعلیم کی نہ صرف اجازت دی ہے؛بلکہ ان کی تعلیم وتربیت کوبھی اتناہی اہم قراردیاہے،جتنامردوں کی تعلیم وتربیت کوضروری قراردیاہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جس طرح دین کی تعلیم مردحاصل کرتے تھے،اسی طرح عورتیں بھی حاصل کرتی تھیں،آپ خواتین کی تعلیم کابڑاخیال کرتے تھے۔

حصول علم میں علمائے کرام کی محنتیں | Urdu News – اردو نیوز

کسی بھی ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کا دار و مدار تعلیم پر ہی ہوتا ہے جس ملک و قوم میں تعلیم کو اہمیت دی جاتی ہے وہ ہمیشہ زندگی میں لوگوں پر اور ان کے دلوں پہ راج کیا کرتے ہیں- جیساکہ شہنشاہ بغدادمحبوب سبحانی قطب ربانی شہبازِ لامکانی سیدی الشیخ عبدالقادر جیلانیؓ اپنے بارے میں ارشادفرماتے ہیں

’’جب میں 10 برس کا تھا اپنے گھر سے مدرسہ جایا کرتا تھا‘‘

علم ظاہر وعلم باطن کے فرق کو واضح کرتے ہوئے مولانا رومیؒ  فرماتے ہیں

علم را بر تن زنی مارے بود
علم را بر دل زنی یارے بود

’’علم کی غرض و غایت اگر صرف ظاہر سنورانا ہےتو یہ تیرے لئے سانپ ہے اور اگر تو اس سے اپنا من سنوارے گا تو یہ تیرا دوست ہے‘‘

اسی چیز کو علامہ محمد اقبالؒ اپنے کلام میں یوں بیان فرماتے ہیں

وہ علم نہیں زہر ہے احرار کے حق میں
جس علم کا حاصل ہے جہاں میں دو کف جو

اہلِ علم پہ حسد کرنابھی جائز (حالانکہ یہ عام حالات میں قابل ِ مذمت ہے )

اقبالؒ نے کیا خوب کہا تھا

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

انسان کی پوری زندگی کا خلاصہ صبر اور اور شُکر ہے یقین جانئے دو لفظوں کا یہ مجموعہ انسان کو نہ صرف راحت وسکون فراہم کرتا ہے بلکہ زندگی میں انسان کو کامیابیوں اور کامرانیوں کے علاوہ انسانیت کی اعلیٰ معراج پر فائز کردیتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں