اعلامہ اقبال ؒ : سماجی ومعاشی تناظر (فکری خطاب)

حصہ : 09

اقبال فرماتے ہیں کہ:

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
اُس کھیت کے ہر خوشئہ گندم کو جلا دو

یعنی گندم کے خوشے پہ اُسی کا حق ہے جو اُسے کاشت کرتا ہے- ذوالفقار علی بھٹو اور ایوب خان نے بھی یہی اصلاحات لانے کی کوشش کی جس کے مقابلے میں جاگیردار اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کو اپنے حق میں بہت سارے فتوے بھی مل گئے- جس کی وجہ سے انہوں نے یہاں پہ اقبال کا تصور رائج نہیں ہونے دیا-مَیں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے معرضِ وجود میں آ جانے کے بعد بھی زمین کی غیر منصفانہ تقسیم (یعنی جاگیر دارانہ نظام) کا برقرار رہنا اقبال کے نظریۂ پاکستان سے انکار اور غداری کے مترادف ہے-

’’زمین کا مالک اللہ ہے‘‘ اس موضوع پہ اقبال کا کلام کلیات میں کئی جگہ پھیلا ہوا ہے ، فارسی میں بھی اُردو میں بھی- بالِ جبریل میں اقبال کی ایک نظم جس کا عنوان ’’اَلاَرْضُ لِلہ‘‘، ہے- جس کا ترجمہ ہے ’’زمین اللہ کیلئے‘‘-اس نظم میں جتنے سوالات ہیں ان کا ایک ہی جواب ہے-

پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون؟
کون دریاؤں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب؟
کون لایا کھینچ کر پچھم سے بادِ ساز گار؟
خاک یہ کس کی ہے،کس کا ہے یہ نُورِ آفتاب؟
کس نے بھر دی موتیوں سے خوشئہ گندم کی جیب؟
موسموں کو کِس نے سکھلائی ہے خُوئے انقلاب؟
دِہ خُدایا! یہ زمیں تیری نہیں، تیری نہیں
تیرے آبا کی نہیں، تیری نہیں، میری نہیں

v     مٹی کی تاریکی میں کسان بیج بوتا ہے اسے پالتا کون ہے؟ ’’اللہ‘‘-

v     دریا کی موجوں سے یہ بخارات کی صورت میں بادل کون اٹھاتا ہے؟ ’’اللہ‘‘-

v     کسان بیج بوتا ہے لیکن گندم کے پودے پہ گندم کے دانے کون اگاتا ہے؟’’اللہ‘‘-

v    یہ موسموں کی تبدیلی، رات اور دن، شبنم اور پانی، روشنی اور ہوا قدرتی طورپہ کون مہیا کرتا ہے؟’’اللہ‘‘-

v    دِہ خدایا! اے دیہات کے جاگیر دار!یہ زمین اللہ کی ہے-

اس لئے اقبال نے اس کا نام ’’اَلاَرْضُ لِلہ‘‘رکھا –

اسی نظم سے دو نظمیں پیچھے نظم ’’گدائی‘‘ہے وہ بھی اقبال کے تصور معیشت پر بڑی معنی خیز ہے – اس کے بعد ’’پیامِ مشرق‘‘ میں ’’قسمت نامہ سرمایہ دار اور جوابِ مزدور‘‘ نہایت قابلِ مطالعہ ہے-کیونکہ اس میں اقبال نے اس بات پہ بصیرت افروز بحث کی ہےکہ کس طریقے سے سرمایہ دار اور جاگیر دار کسان اور مزدورکو اپنے شکنجے میں گرفتار کرتا ہے-

جاری ہے ۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں