بلوچستان کی پاکستان میں شمولیت

بلوچستان پاکستان کے جنوب مغربی حصے پر مشتمل صوبہ ہے جس کی سرحدافغانستان اور ایران سے ملتی ہے ۔اور جنوب میں اس صوبے کی سرحد بحیرہ عرب سے جاملتی ہے ۔رقبے کے لحاظ سے بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے ۔یہ صوبہ تیل ،گیس ،تانبے سمیت قدرتی وسائل سے مالامال ہے ۔بد قسمتی سے معدنی وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود یہ صوبہ یہ پاکستان کا غریب ترین صوبہ رہا ہے ۔ماضی میں کسی حکومت نے بھی اس پر توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی،بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جس کا کل رقبہ347190کلو میٹر ہے جو کہ پاکستان کے کلُ رقبے کا43.6فیصد بنتا ہے

صوبہ بلوچستان قیام پاکستان کے وقت پانچ حصوں پر مشتمل تھا ۔جس میں چار شاہی ریاستں جس میں مکران خاران،لسبیلہ ،قلات جبکہ ایک برٹش انڈیا کا علاقہ برٹش بلوچستان تھا۔ مکران ،خاران لسبیلہ،قلات کےعلاقے کم و بیش وہی ہیں جو کہ آج اسی نام کے ڈویژن سے موجود ہیں ۔جبکہ برٹش بلوچستان میں موجودہ بلوچستان پشین مسلم باغ،ژوب ،چمن،سیف اللہ، قلعہ عبداللہ،کے علاوہ بلوچ علاقہ ضلع چاغی اور کوئٹہ کےعلاقے شامل تھے اس وقت گوادر کا علاقہ عمان کا حصہ ہوا کرتا تھا جو کہ خان آف قلات نے عمان کو دیا تھا۔لسبیلہ اور مکران ہی صرف سمندری پٹی تھی باقی تینوں علاقے خاران برٹش بلوچستان اور قلات بس یہی وہ علاقے تھے جو خشکی میں گھرے ہوئے تھے۔قیام پاکستان کے وقت تین جون کے منصوبہ کے تحت برٹش بلوچستان نے پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ شاہی جرگہ اور کوئٹہ میونسپل کمیٹی کے اراکین کے ذریعے کرنا تھا۔آزاد ہونے والی ریاستوں میں خاران لسبیلہ اور مکران کے حکمرانوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا

جاری ہے ۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں