گوادر سی پیک پروجیکٹ بلوچستان اور بلوچ قوم کی اقتصادی ترقی و خوشحالی کی ضامن ہے

 

پاکستان چین شہد سے میٹھی‘ ہمالیہ سے بلند اور سمندروں سے گہری دوستی آج بلاشبہ پوری اقوام عالم میں ایک چھوتی مثال بن چکی ہے۔ یہ دوستی محض زبانی جمع خرچ اور رسمی سفارتی تعلقات تک محدود نہیں بلکہ خطے کے مشترکہ دشمن بھارت کے مقابل یہ بے لوث دوستی پاکستان اور چین کے دفاع کی بھی ضامن ہے جبکہ سی پیک کے مشترکہ منصوبے کے ذریعے اس خطے کی اقتصادی ترقی اور خوشحالی کی بھی راہیں کھولی گئی ہیں۔ اسی تناظر میں سی پیک کو روشن مستقبل کی علامت قرار دیا جارہا ہے جس کی بنیاد پر علاقائی امن کی بھی ضمانت مل جائیگی کیونکہ سی پیک سے وابستہ ہونیوالے علاقائی‘ مغربی‘ یورپی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک سی پیک کے ذریعے علاقائی اور عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کیلئے خود بھی سی پیک کے تحفظ اور علاقائی امن و آشتی کو یقینی بنائیں گے۔ اس تناظر میں سی پیک کا منصوبہ ہمارے لئے کسی نعمت سے کم نہیں جو ہمارے تحفظ کی ضمانت بھی بن رہا ہے اور ہماری اقتصادی ترقی کے راستے بھی کھول رہا ہے۔ اس حوالے سے گزشتہ روز قائم مقام چینی سفیر زائولی جیانگ نے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنیوالے پاکستانی طلبہ پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان چین اقتصادی راہداری سے پیدا ہونیوالے مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔ انکے بقول بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ کی توسیع چین کی ترجیحات میں شامل ہے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سی پیک اس خطے میں اقتصادی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگا جس کے ذریعے ہمارے غربت اور روزگار کے مسائل بھی حل ہونگے اور ہم مضبوط و مستحکم معیشت سے ہمکنار ہو کر ترقی یافتہ ممالک کی صف میں بھی شامل ہو جائینگے۔ ہمارے دشمن بھارت کے پیٹ میں اسی بنیاد پر سی پیک کے حوالے سے مروڑ اٹھتے ہیں کہ اسکے ذریعے پاکستان اقتصادی اور دفاعی طور پر مستحکم ہو گا تو پاکستان کی سلامتی تاراج کرنے کے اسکے سارے منصوبے خاک میں مل جائینگے اور اس کیلئے اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو آگے بڑھانے کے راستے مسدود و جائینگے۔ بھارت کو پاکستان کی ترقی اوراستحکام بھلا کیسے ہضم ہو سکتا ہے اس لئے ہمارے اس مکار دشمن نے اپنی تمام تر سازشوں کا رخ سی پیک کی جانب موڑ دیا اور اسے سبوتاژ کرنے کے جنون میں مبتلا ہو گیا۔ اس مقصد کیلئے اس نے امریکہ کو اپنا ہمنوا بنایا جس کے اس خطے میں اپنے بھی توسیع پسندانہ عزائم ہیں۔ اس طرح امریکہ اور بھارت الگ الگ بھی اور مشترکہ طور پر بھی سی پیک کو سبوتاژ کرنے کی سازشوں میں مصروف ہو گئے۔ امریکہ نے بھارتی ایماء پر ہی سی پیک کو شمالی علاقہ جات کے حوالے سے متنازعہ بنانے کی کوشش کی جبکہ بھارت بلوچستان اور پاکستان کے دوسرے علاقوں میں دہشت گردی کے ذریعے عدم تحفظ اور عدم استحکام پیدا کرنے کی گھنائونی سازشوں کو ’’را‘‘ کے پھیلائے دہشت گردی کے نیٹ ورک کے ذریعے عملی جامہ پہنانے میں مصروف ہو گیا تاہم پاکستان اور چین نے اپنی بے لوث دوستی اور مشترکہ مفادات کے تناظر میں سی پیک کیخلاف کسی بھی اندرونی اور بیرونی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا اور آج دونوں ممالک کی قیادتیں 2022ء تک سی پیک کو اپریشنل کرنے کیلئے پرعزم ہیں جس کیلئے باہمی تعاون میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جارہی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں