حضرت عبداللہ بن عمر رضی ﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

3. حضرت عبداللہ بن عمر رضی ﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

مَنْ جَاءَ نِي زَائِرًا لَا يَعْمَلُهُ حَاجَةً إِلَّا زِيَارَتِي، کَانَ حَقًّا عَلَيُ أَنْ أَکُوْنَ لَهُ شَفِيْعًا يَوْمَ الْقِيَامَة…

-: تبلیغ اسلام کرنے والا بھیڑیا.

حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بھیڑیئے نے ایک بکری کو پکڑ لیالیکن بکریوں کے چرواہے نے بھیڑئیے پر حملہ کرکے اس سے بکری کو چھین لیا۔ بھیڑیا بھاگ کر ایک ٹیلے پر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ اے چرواہے! ﷲ تعالیٰ نے مجھ کو رزق دیا تھا مگر تو نے اس کو مجھ سے چھین لیا۔

.

چرواہے نے یہ سن کر کہا کہ خدا کی قسم! میں نے آج سے زیادہ کبھی کوئی حیرت انگیز اور تعجب خیز منظر نہیں دیکھا کہ ایک بھیڑیا عربی زبان میں مجھ سے کلام کرتا ہے۔.

بھیڑیا کہنے لگا کہ اے چرواہے! اس سے کہیں زیادہ عجیب بات تو یہ ہے کہ تو یہاں بکریاں چرا رہا ہے اور تو اس نبیﷺ کو چھوڑے اور ان سے منہ موڑے ہوئے بیٹھا ہے جن سے زیادہ بزرگ اور بلند مرتبہ کوئی نبی نہیں آیا۔

اس وقت جنت کے تمام دروازے کھلے ہوئے ہیں اور تمام اہل جنت اس نبیﷺ کے ساتھیوں کی شانِ…

: حضرت عمر فاروقِ اعظم کا عقیدہ

مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ ، امیرُ المؤمنین حضرت سیّدُنا عمر فاروقِ اعظم  رضی اللہ عنہ  نے حُضور نبیِّ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے وِصالِ ظاہری کے بعد روتے ہوئے اس طرح فرمایا : یارسولَ اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان! اللہ پاک کی بارگاہ میں آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا مرتبہ اس قدر بلند ہے کہ آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کو انبیائے کرام میں سب سے آخر میں بھیجا ہے اور آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا ذکر ان سب سے پہلے فرمایا ہے۔ [5].

[5] الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ، 1 / 45

DawateIslami - فرمانِ مصطفیٰ ﷺ: مَنۡ سَبَّ عَلِیًّا فَقَدۡ سَبَّنِیۡ یعنی  جس نے علی کو بُرابھلا کہاتو تحقیق اس نے مجھ کو بُرابھلا کہا۔" (سنن الکبری  لنسائی،کتاب الخصائص،الحدیث:۸۴۷۶،۵/۱۳۳) #ramadan2018 #21st #ramadan #ali |

: ملا علی قاری رحمۃ ﷲ علیہ ایک دُوسرے مقام پر ’قصیدہ بُردہ شریف‘ کی شرح میں لکھتے ہیں

’’اگر خدائے رحیم و کریم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسمِ مبارک کی حقیقی برکات کو آج بھی ظاہر کردے تو اُس کی برکت سے مُردہ زندہ ہوجائے، کافر کے کفر کی تاریکیاں دُور ہوجائیں اور غافل دل ذکرِ الٰہی میں مصروف ہوجائے..

لیکن ربِ کائنات نے اپنی حکمتِ کاملہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اِس اَنمول جوہر کے جمال پر پردہ ڈال دیا ہے، شاید ربِ کائنات کی یہ حکمت ہے کہ معاملات کے برعکس اِیمان بالغیب پردہ کی صورت میں ہی ممکن ہے اور مشاہدۂ حقیقت اُس کے منافی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن و جمال کو مکمل طور پر اِس لئے بھی ظاہر نہیں کیا گیا کہ کہیں ناسمجھ لوگ غلُوّ کا شکار ہوکر معرفتِ اِلٰہی سے ہی غافل نہ ہو جائیں۔‘‘.

ملا علي قاري، الزبدة في شرح البردة : 60

: شاہ ولی ﷲ محدث دہلوی رحمۃ ﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ میرے والدِ ماجد شاہ عبدالرحیم رحمۃ ﷲ علیہ کو خواب میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی تو اُنہوں نے عرض کیا :

یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیک وسلم! زنانِ مصر نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھ کر اپنے ہاتھ کاٹ لئے اور بعض لوگ اُنہیں دیکھ کر بیہوش بھی ہو جاتے تھے، لیکن کیا سبب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ کر ایسی کیفیات طاری نہیں ہوتیں۔

اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’میرے اللہ نے غیرت کی وجہ سے میرا جمال لوگوں سے مخفی رکھا ہے، اگر وہ کما حقہ آشکار ہو جاتا تو لوگوں پر محوِیت وبے خودی کا عالم اِس سے کہیں بڑھ کر طاری ہوتا جو حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھ کر ہوا کرتا تھا۔‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں