: اللہ تعالیٰ کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسیلہ سے حضرت آدم علیہ السلام سے درگزر فرمانے کا بیان

’’حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب حضرت آدم علیہ السلام سے لغزش سرزد ہوئی تو انہوں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور عرض گزار ہوئے:

(یا ﷲ!) اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا تو میں (تیرے محبوب) محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسیلہ سے تجھ سے سوال کرتا ہوں (کہ تو مجھے معاف فرما دے) تو اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی۔

مصطفی کون ہیں؟ پس حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا: (اے مولا!) تیرا نام پاک ہے جب تو نے مجھے پیدا کیا تو میں نے اپنا سر تیرے عرش کی طرف اٹھایا وہاں میں نے ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ لکھا ہوا دیکھا لہٰذا میں جان گیا کہ یہ ضرور کوئی بڑی ہستی ہے جس کا نام تو ن

: شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ ﷲ علیہ فرماتے ہیں :.

آنحضرت بتمام از فرق تا قدم ہمہ نور بود، کہ دیدۂ حیرت درجمالِ با کمالِ وی خیرہ میشد مثل ماہ و آفتاب تاباں و روشن بود، و اگر نہ نقاب بشریت پوشیدہ بودی ہیچ کس را مجال نظر و اِدراکِ حسنِ اُو ممکن نبودی..

’’حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سرِ انور سے لے کر قدمِ پاک تک نور ہی نور تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حُسن و جمال کا نظارہ کرنے والے کی آنکھیں چندھیا جاتیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جسمِ اَطہر چاند اور سورج کی طرح منوّر و تاباں تھا۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلوہ ہائے حسن لباس بشری میں مستور نہ ہوتے تو رُوئے منوّر کی طرف آنکھ بھر کر دیکھنا ناممکن ہو جاتا۔‘‘.

محدث دهلوي، مدارج النبوة، 1 : 137

2۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

مَنْ زَارَنِي بِالْمَدِيْنَةِ مُحْتَسِبًا کُنْتُ لَهُ شَهِيْدًا وَشَفِيْعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ..

’’جس شخص نے خلوصِ نیت سے مدینہ منورہ حاضر ہوکر میری زیارت کا شرف حاصل کیا، میں قیامت کے دن اس کا گواہ ہوں گا اور اس کی شفاعت کروں گا۔‘‘

1. بيهقي، شعب الإبمان، 3 : 490، رقم : 4157

2. سبکي، شفاء السقام في زيارة خيرالأنام : 28

3. مقريزي، إمتاع الأسماع، 14 : 614 عسقلانی نے تلخیص الحبیر (2 : 267)‘ میں اسے مرفوع کہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں