دہشتگرد تنظیموں کے اس ظلم وجبر کا حساب کون دے گا؟

 انسانی حقوق تحفظ نہیں بلکہ اب ایک فیشن بن چکا ہے۔اور انسانی حقوق کا نعرہ ایک پردہ بن چکا ہے بلوچستان کے علاقے ہوشاب میں ایک واقعہ پیش آیا جس  میں دو معصوم کم عمر بچے شہید  اور ایک زخمی ہوا ،    کچھ عناصر کا کہنا تھا کہ مسلح افراد نے اپنا سازوسامان یہاں چھپا کر رکھا ہوا تھا ۔ اب بچوں کو کیا پتا تھا کہ ان کی جان کو خطرہ  ہے  ، بچے تو ناسمجھ ہوتے ہیں بچے کھیلتے کھیلتے اس جگہ پہنچ گئے جہاں  دہشتگرد تنظیموں نے اپنے مکروہ عزائم  کو پورا کرنے کے لیے اسلحہ ، گولہ بارود ، اور ہینڈ گرنیڈ کو کھلے عام زمین پر رکھا تھا  ۔ اور  2 معصوم بچے اسلحہ   کی زد میں آکر  جان کی بازی ہار گئے ۔ان بچوں کی ماؤں  کا دہشتگرد تنظیموں سے بس ایک ہی سوال ہے ؟ کہ ان  2 معصوم بچوں کا کیا قصور تھا ؟ایسے واقعات انسانی حقوق کی تنظیموں کا توجہ حاصل نہیں کرتیں ۔پارلیمنٹ میں گلا پھاڑ کر انسانی حقوق کا رونا رونے والے بھی ان معاملات پر مکمل خاموشی اختیار کرتے ہیںجن میں مسلح تنظیمیں ملوث ہوں۔یہ فیصلہ عام لوگوں اور خاص طورپر نوجوانوں کو کرنا ہے کہ وہ کس طرح معاشرے میں تقسیم اور انتشار پھیلانے والوں کو بے نقاب کریں  ۔ انسانی حقوق کا حصول سب انسانوں کا حق ہے جسے صرف مخصوص لوگوں پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔اس واقعہ پر بامسار بلوچ کی  پرزور مذمت اور لواحقین کو انصاف دلانے کی اپیل کرتا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں