بلوچستان میں دہشتگرد تنظیموں کی کاروائیوں سے غریب عوام پریشان ہوچکا ہے

بلوچستان میں متحرک کالعدم تنظیمیں بزرگ و باعزت شہریوں کو آئے روز مختلف الزامات لگا کر قتل کررہےہیں۔ قوم فروشی و قوم دوستی کی اپنے حساب سے تعریف کرکے وہ ہر اُس بلوچ کوقتل کرنے پر آمادہ نظر آتے ہیں جو تشدد کی حمایت نہیں کرتا۔بلوچستان میں کالعدم تنظیمیں ہر اُس آواز کو قتل کرنے پر تیار ہیں جو تشدد کو خود پر اور لوگوں پر ظلم سمجھتا ہے۔ ایسا سمجھنے والے صرف چند لوگ نہیں جو مسلح تنظیموں کی خوف سے خاموش ہوجائیں۔ سارا بلوچستان تشدد کے خلاف اور پرامن ماحول کا خواہاں ہے، یہ بات یقینی ہے کہ مسلح تنظیمیں اپنی رائے کو زبردستی عوام پر نہیں تھونپ سکتے۔دہشتگردوں کامقصد بلوچستان میں بدامنی پھیلانا ہے انہیں عوام کی تکالیف کی کوئی پرواہ نہیں، اسی لئے وہ تشدد اور نہتے لوگوں کو قتل کرنے کا سلسلہ بدستور برقرار رکھے ہوئے ہیں۔گزشتہ روز تربت کے علاقے آسکانی بازار میں کالعدم تنظیم  کے کارندوں نے اندھا دھن فائرنگ شروع کر دی  سیکورٹی فورسز نے عوام کو بچانے کے ساتھ ساتھ دہشتگردوں کو منہ توڑ جواب دیا ۔ اس بزدلانہ کاروائی میں دہشتگرد کی گولی کا نشانہ ایک خاتون بنی۔اس خاتون کا نام تاج بی بی ہے جو اپنے شوہر کے ساتھ لکریاں لینے جا رہی تھی دہشتگردوں کے اس حملے میں تاج بی بی کے شوہر خود تو محفوظ رہے لیکن اپنی اہلیہ کو نہ بچا سکا۔سوشل میڈیا پر کچھ عناصر اس خبر کو پروپیگنڈے کی شکل دے رہے ہیں ان عناصر کا مقصد بلوچستان کی خوشحالی نہیں بلکہ ریاست کے خلاف پروپیگنڈہ کرنا ہے۔ان کی سیاست کامحورہی یہی ہے کہ کس طرح بلوچستان کے لوگوں کو بہکا کرریاست کے خلاف تشدد پر آمادہ کیا جا سکے۔سنجیدہ نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ سوشل میڈیا کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے بلوچستان میں منافقت اور دوغلی سیاست کرنے والوں کا پردہ فاش کریں۔ جب تک منظم عوامی طاقت کو شدت پسندی کے خلاف یکجا نہیں کیا جاتا، تب تک بلوچستان میں یونہی قتل و غارت گری اور شدت پسندی کی گرم بازاری رہے گی، جو کسی صورت بلوچستان کے عوام کی حق میں نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں