بلوچستان، دہشتگردی کیخلاف اقدامات کی ضرورت۔۔ بامسار بلوچ

گوادر پورٹ کی تعمیر اور سی پیک جیسے عالمی اور انقلابی منصوبوں پر کام شروع ہونے کے بعد بلوچستان کی اہمیت بڑھ گئی ہے اور ملک دشمن قوتوں نے اسے نشانے پر لے لیا ہے بالخصوص بھارت ہماری ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے کیلئے افغانستان کے راستے صوبے میں بدامنی پھیلانے کے درپے ہے۔ کلبھوشن یادیو جیسے بھارتی جاسوس کا بلوچستان سے گرفتار ہونا، اِس بات کی واضح دلیل ہے۔ بھارت کی بلوچستان میں بے جا مداخلت کی وجہ سےصوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مسلسل خطرہ لاحق ہے۔ یہی وجہ سے کہ آئے روز یہاں دہشت گردی کے چھوٹے بڑے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ 

بلوچستان میں جب بھی امن و امان کی صورتحال بہتر ہوتی ہے، تو دہشت گردی کا کوئی نہ کوئی افسوسناک واقعہ رونما ہو جاتا ہے۔ بھارت کی شہ پر بلوچستان میں علیحدگی اور شدت پسند عناصر ہِٹ اینڈ رن کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ دہشت گردی میں عارضی وقفہ سے یہ نہ سمجھا جائے کہ انتہا پسندی کا سلسلہ رک گیا ہے۔ سیکورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو ہمہ وقت چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔ عوام بھی ہوشیار رہیں اور اپنے ارد گرد مشکوک عناصر پر نظر رکھیں، تاکہ دہشت گردی اور انتہا پسند عناصر کا قلع قمع کیاجا سکے۔ پاکستان قوموں کی برادری میں ایک ترقی یافتہ اور خوشحال ملک کے طور پر ابھر سکے۔ 

 کوئٹہ کو دہشت گردوں نے رواں سال اس سے پہلے کئی بار دہشت گر دوں کی وجہ سے اس علاقہ کے امن کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جن میں 23 جون کو شہداء چوک میں دہشت گردی کا پہلا واقعہ تھا، دوسرا 13 جولائی کو کو کلی دیبا میں، تیسرا 12 اگست کو ہوا، جب ایک سکیورٹی فورسز کے ٹرک کو نشانہ بنایا گیا، چوتھا واقعہ 13 اگست کو فقیر محمد روڈ، پانچواں 18 اکتوبر کو ہوا جب خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی پولیس ٹرک سے ٹکرا دی تھی، چھٹا واقعہ 15 نومبر کو نواں کلی میں ہوا تھا، جبکہ 9 نومبر کو ڈی آئی جی بلوچستان سمیت تین اہلکار شہید ہوگئے تھے۔ دراصل اس طرح کے واقعات کی کڑیاں ان عناصر سے بھی ملائی جارہی ہیں جن کو پاکستان کی ترقی ایک آنکھ نہیں بھاتی اور جب سے سی پیک کا آغاز ہوا، اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہی ہوا، دراصل وہ سب سمجھتے ہیں کہ اگر سی پیک جیسا اہم منصوبہ بن گیا تو پاکستان میں ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو جائے گا، اسی لئے اس پاک چین منصوبے کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

دو عشروں کے دوران بلوچستان میں شدت پسندی میں تیزی سے اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ بلوچستان کے اندر صوفی سنّی، ہزارہ شیعہ اور ذکری بلوچ کمیونٹیز کو نشانہ بنانے میں بھی تیزی آگئی ہے جبکہ گزشتہ دو تین برس میں ایسی خبریں بھی عام ہوئی تھیں کہ بلوچ اکثریتی علاقوں میں داعش کا نیٹ ورک تیزی سے جڑ پکڑ رہا ہے۔ بلوجستان میں مخصوص شدت پسندوں کی جانب سے مزارات و امام بارگاہوں کو نشانہ بنانے کا سب سے پہلا باقاعدہ سراغ اس وقت ملا تھا جب شکار پور میں امام بارگاہ میں ہونے والی مجلس کو نشانہ بنانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے ایک خودکش بمبار پکڑا گیا تھا جس کا نام عثمان بتایا گیا۔ اس مبینہ خودکش بمبار نے سکیورٹی اداروں کو دوران تفتیش بتایا کہ اس کی تربیت بلوچستان اور افغانستان میں ہوتی رہی ہے اور وہ حفیظ بروہی نامی شخص کے کہنے پہ یہ دھماکہ کرنے آیا تھا۔ بلوچستان میں ہونیوالی دہشت گردی میں مذہبی تعصب کا عنصر بھی نمایاں ہے۔ 

اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ گزشتہ کچھ سال میں سیکورٹی اداروں نے امن عامہ کی صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، تاہم شرپسند عناصر تخریبی کارروائیوں کی کوشش میں کامیاب ہو جاتے ہیں، پاک چین اقتصادی راہداری میں بلوچستان کے اہم کردار کی وجہ سے حکام دیگر ممالک کے خفیہ اداروں پر حالات خراب کرنے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ اس حوالے سے صوبائی حکومت متعدد مرتبہ یہ دعویٰ کرچکی ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را، افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے ساتھ مل کر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ بلوچستان کے ساحلی پورٹ شہر گوادر سے متعدد راستوں کے ذریعے چین سے تجارت بڑھانے کے لیے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر کام جاری ہے۔ جس کے تحت بلوچستان سمیت دیگر صوبوں میں ترقیاتی کام جاری ہیں، اس منصوبے کے حوالے سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ یہ خطے اور خاص طور پر پاکستان میں معاشی تبدیلی کا باعث ہوگا۔ اس منصوبے کیخلاف سازشوں کے نتیجے میں صوبہ بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ ایک عرصے سے امن دشمنوں کے نشانے پر ہے، کوئٹہ میں سیکورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد دہشتگرد حملوں میں جان گنوا چکی ہے، ڈاکٹروں، صحافیوں، اساتذہ سمیت شہر کی سول سوسائٹی کی بڑی تعداد دہشتگردی کا شکار ہوچکی ہے۔ اس طرح کے واقعات کی ذمہ داری عموماً وہ عناصر قبول کرتے ہیں، جو اس طرح کے واقعات میں براہ راست ملوث نہیں ہوتے۔

واقعے کی ذمہ داری کسی جانب سے قبول ہوتی ہے یا نہیں اس سے قطع نظر بلوچستان میں متحرک راء کی تخریب کاری اور دہشت گردی کے واقعات میں بالواسطہ و بلا واسطہ ملوث ہونا گویا نوشتہ دیوار ہے۔ دہشت گرد بلوچستان میں امن وامان کی بہتر صورتحال خراب کرنے کے درپے ہیں۔ جس کا بنیادی مقصد اقتصادی راہداری منصوبے کو سبوتاژ کرنا ہے۔ کیونکہ اس حوالے دو رائے نہیں کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ملک کی تقدیر بدلنے کا انقلابی منصوبہ ہے، جس کے لئے امن کا قیام اور استحکام ناگزیر ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایک دہشت گرد کو ڈھونڈ نکال کر کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ بلوچستان میں سرگرم عمل عناصر اور راء کے ساتھ گٹھ جوڑ رکھنے والے سرحد پار سے آنے والے دہشت گردوں اور تخریب کاروں اور ان کے ہمدردوں کے خلاف سخت اقدامات اور ان کے داخلے کے امکانات کو نہ ہونے کے برابر لانے کے لئے بھی خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے۔ خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ ساتھ پولیس اور دیگر متعلقہ شعبوں اور اداروں میں بھی فعالیت و فرض شناسی کی مثالیں قائم کرنی ہوں گی۔

یہ ایک مشکل مرحلہ ہے، جس میں جب تک ریاست کے سارے وسائل قوت اور عوام سبھی یکساں جانفشانی ذمہ داری اور وطن عزیز کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کی نہیں ٹھان لیں گے، مطلوبہ نتائج کا ماحول تشنہ طلبی کا شکار رہنے کا خدشہ ہے۔ مربوط اور مشترکہ کوششیں اور عوام کا بھرپور تعاون کامیابی کا ضامن ہوگا۔ دہشت گردی کا مذہبی پہلو ہو یا نسلی اور قومی، نائن الیون کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں لاتعداد بے گناہوں کی جانیں چلی گئیں۔ اسی حالات میں پاک افواج نے وطن عزیز کو دہشت گردوں سے نجات کے لئے ان کے خلاف پہلے، آپریشن ضرب عضب کرکے ان علاقوں کو تباہ برباد کیا، جن کو دہشت گرد نے اپنی پناہ گاہوں کے طور پر بنایا ہوا تھا، اب بھی پاک فوج کے جوان آپریشن ردالفساد کے ذریعے وطن دشمن عناصر کا قلع قمع کرنے میں مصروف ہیں اور اس میں اپنی جانوں کا بھی نذرانہ دے رہے ہیں۔ ضرورت آج اس بات کی ہے کہ قوم دشمن کے عزائم کو سمجھتے ہوئے اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرے، اس سے ہی ہم دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناپاک بناسکتے ہیں۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں