علامہ اقبال کی عید میلاد النبی کے متعلق ایک تقریر سے اقتباس

محفل میلاد النبی ﷺ

علامہ اقبال نے ایک موقع پر محفل میلاد النبی ﷺ کے متعلق ایک مختصر سی تقریر میں چند خیالات ظاہر فرمائے تھے۔ اس تقریر کی رپورٹ زمیندار لاہور میں شائع ہوئی تھی۔ جناب پروفیسر غلام دست گیر رشید نے یہ تقریر زمیندار کے صفحات سے لے کر اپنے مجموعہ “آثارِاقبال” میں شائع کی تھی اور اب “آثارِ اقبال” سے لے کر ہدیہ ناظرین کی جاتی ہے۔ (بندہ واحد)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


زمانہ ہمیشہ بدلتا رہتا ہے۔ انسانوں کی طبائع، ان کے افکاراور ان کے نقطہ ہائے نگاہ بھی زمانے کے ساتھ ہی بدلتے رہتے ہیں۔ لہٰذا تہواروں کے منانے کے طریق بھی بدلتے اور مراسم بھی ہمیشہ متغیرہوتے رہتے ہیں اور ان سے استفادہ کے طریق بھی بدلتے رہتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنے مقدس دنوں کے مراسم پر غور کریں اور جو تبدیلیاں افکار کے تغیرات سے ہونی لازم ہیں اُن کو مد نظر رکھیں۔

منجملہ ان مقدس ایّام کے جو مسلمانوں کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں، ایک میلاد النبی ﷺ کا دن بھی ہے۔ میرے نزدیک انسانوں کی دماغی اور قلبی تربیت کے لیے ضروری ہے کہ ان کے عقیدے کی رو سے زندگی کا جو نمونہ بہترین ہو وہ ہر وقت ان کے سامنے رہے۔ چنانچہ مسلمانوں کے لیے اسی وجہ سے ضروری ہے کہ وہ اسوہ رسول ﷺ کو مد نظر رکھیں تا کہ جزبہ تقلید اور جزبہ عمل قائم رہے۔ ان جزبات کو قائم رکھنے کے تین طریقے ہیں۔ پہلا طریق تو درود و صلوٰۃ ہے۔ جو مسلمانوں کی زندگی کا جز ولانیفک ہو چکا ہے۔ وہ ہر وقت درود پڑھنے کے موقعے نکالتے ہیں۔ عرب کے متعلق میں نے یہ سنا کہ اگر بازار میں دو آدمی لڑ پڑتے ہیں اور تیسرا بہ آواز بلند اللّھم صل علیٰ سیّدنا وبارک وسلم پڑھ دیتا ہے تو لڑائی فورًا رک جاتی ہے اور متخاصمین ایک دوسرے پر ہاتھ اٹھانے سے فوراً باز آ جاتے ہیں۔ یہ درود کا اثر ہے اور لازم ہے کہ جس پر درود پڑھا جائے اس کی یاد قلوب کے اندر اپنا اثر پیدا کرے۔

پہلا طریق انفرادی، دوسرا اجتماعی ہے۔ یعنی مسلمان کثیر تعداد میں جمع ہوں اور ایک شخص جو آقائے دو جہاں ﷺ کی سوانح حیات سے پوری طرح با خبر ہو آپ ﷺ کے سوانح زندگی بیان کرے تا کہ ان کی تقلید کا ذوق شوق مسلمانوں کے قلوب میں پیدا ہو۔ اس طریق پرعمل پیرا ہونے کے لیے سب آج یہاں جمع ہیں۔

تیسرا طریق اگرچہ مشکل ہے لیکن بہر حال اس کا بیان کرنا نہایت ضروری ہے۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ یاد رسول ﷺ اس کثرت سے اور ایسے انداز میں کی جائے کہ انسان کا قبلہ نبوت کے مختلف پہلوؤں کا خود مظہر ہوجائے یعنی آج سے تیرہ سو سال پہلے کی جو کیفیت حضور سرور عالم ﷺ کے وجود مقدس سے ہویدا تھی وہ آج تمہارے قلوب کے اندر پیدا ہوجائے۔ حضرت مولانا رومؒ فرماتے ہیں۔
آدمی دید است باقی پوست است

دیدآں باشد کہ دید و دوست است

یہ جوہر انسانی کا انتہائی کمال ہے کہ اسے دوست کے سوا کسی چیز کی دید سے مطلب نہ رہے۔ یہ طریقہ بہت مشکل ہے۔ کتابوں کو پڑھنے یا میری تقریر سننے سے نہیں آئے گا۔ اس کے لیے کچھ مدت نیکوں اور بزرگوں کی صحبت میں بیٹھ کر روحانی انوار حاصل کرنا ضروری ہے۔ اگر یہ میسر نہ ہو تو پھر ہمارے لیے یہی طریقہ غنیمت ہے جس پر ہم آج عمل پیرا ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ اس طریق پر عمل کرنے کے لیے کیا کیا جائے؟ پچاس سال سے شور برپا ہے مسلمانوں کو تعلیم حاصل کرنی چاہیے۔ لیکن جہاں تک میں نے غور کیا تعلیم سے زیادہ اس قوم کی تربیت ضروری ہے اور ملّی اعتبار سے یہ تربیت علماء کے ہاتھ میں ہے۔ اسلام ایک خالص تعلیمی تحریک ہے۔ صدر اسلام میں اسکول نہ تھے، کالج نہ تھے، یونیورسٹیاں نہ تھیں لیکن تعلیم و تربیت اس کی ہر چیز میں ہے۔ خطبہ جمعہ، خطبہ عید، حج، وعظ غرض تعلیم و تربیتِ عوام کے بے شمار مواقع اسلام نے بہم پہنچائے ہیں، لیکن افسوس کہ علماء کی تعلیم کا کوئی صحیح نظام قائم نہیں رہا۔ اور اگر رہا بھی تو اس کا طریق عمل ایسا رہا کہ دین کی حقیقی روح نکل گئی۔ جھگڑے پیدا ہو گئے اور علماء کے درمیان جنہیں پیغمبر علیہ السلام کی جانشینی کا فرض ادا کرنا تھا، سر پھٹول ہونے لگی۔ مصر، عرب، عراق، افغانستان ابھی تہذیب و تمدن میں ہم سے پیچھے ہیں لیکن وہاں علماء ایک دوسرے کا سر نہیں پھوڑتے۔ وجہ یہ ہے کہ اسلامی ممالک نے اخلاق کے اس معیار اعلیٰ کو پا لیا ہے جس کی تکمیل کے لیے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام مبعوث ہوئے تھے اور ہم ابھی اس معیار سے بہت دور ہیں۔

دنیا میں نبوت کا سب سے بڑا کام تکمیل اخلاق ہے۔ چنانچہ حضور ﷺ نے فرمایا “بُعِثْتُ لأتمم مكارم الأخلاق” یعنی میں نہایت اعلیٰ اخلاق کے اتمام کے لیے بھیجا گیا ہوں، اس لیے علماء کا فرض ہے کہ وہ رسول اللہ کے اخلاق ہمارے سامنے پیش کیا کریں تاکہ ہماری زندگی حضورﷺ کے اسوۃ حسنہ کی تقلید سے خوشگوار ہو جائے اور اتباعِ سنت زندگی کی چھوٹی چھوٹی چیزوں تک جاری و ساری  ہو جائے. حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ کے سامنے خربوزہ لایا گیا تو آپ نے کھانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ مجھے معلوم نہیں رسول اللہ ﷺ نے اس کو کس طرح کھایا ہے۔ مبادا میں ترک سنت کا مرتکب ہو جاؤں۔ ؎

کاملِ بسطام در تقلید فرد

اجتناب از خوردن خربوزہ کرد

افسوس کہ ہم میں بعض چھوٹی چھوٹی باتیں بھی موجود نہیں ہیں جن سے ہماری زندگی خوشگوار ہو اور ہم اخلاق کی فضا میں زندگی بسر کر کے ایک دوسرے کے لیے باعثِ رحمت ہو جائیں۔ اگلے زمانے کے مسلمانوں میں اتباع سنت سے ایک اخلاقی ذوق اور ملکہ پیدا ہو جاتا تھا اور وہ ہر چیز کے متعلق خود ہی اندازہ کر لیا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کا رویہ اس چیز کے متعلق کیا ہوگا۔

حضرت مولانا روم بازار میں جا رہے تھے۔ آپ کو بچوں سے بہت محبت تھی۔ کچھ بچے کھیل رہے تھے۔ ان سب نے مولانا کو سلام کیا اور مولانا ایک ایک کا سلام الگ الگ قبول کرنے کے لیے دیر تک کھڑے رہے۔ ایک بچہ کہیں دور کھیل رہا تھا۔ اس نے وہیں سے پکار کر کہا کہ حضرت ابھی جائیے گا نہیں۔ میرا سلام لیتے جائیے تو مولانا نے بچہ کی خاطر دیر تک توقف فرمایا اور اس کا سلام لے کر گئے۔ کسی نے پوچھا حضور آپ نے بچہ کے لیے اس قدر توقف کیا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر رسول اللہ ﷺ کو اس قسم کا واقعہ پیش آتا، تو حضور ﷺ بھی یونہی کرتے۔

گویا ان بزگوں میں تقلید رسول ﷺ اور اتباع سنت سے ایک خاص اخلاقی ذوق پیدا ہو گیا تھا۔ اس طرح کے بے شمار واقعات ہیں۔ علماء کو چاہیے کہ ان کو ہمارے سامنے پیش کریں۔ قرآن و حدیث کے غوامض بتانا بھی ضروری ہے۔ لیکن عوام کے دماغ ابھی ان مطالب عالیہ کے متحمل نہیں۔ انہیں فی الحال صرف اخلاقِ نبوی کی تعلیم دینی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں