علامہ اقبال ؒ :سماجی ومعاشی تناظر (فکری خطاب)

حصہ ۔ 08

ابلیس کہتاہے کہ میں کارل مارکس، اشتراکیوں اور مغرب کے جمہوری نظام سے نہیں ڈرتا-مجھے خدشہ اور ڈر اس بات کا ہے کہ:

ہے اگر مجھ کو خطر کوئی تو ا ُس اُمّت سے ہے
جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرارِ آرزو
خال خال اس قوم میں اب تک نظر آتے ہیں وہ
کرتے ہیں اشکِ سحرگاہی سے جو ظالم وضُو

پھر اس کے بعد کہتا ہے کہ :

جانتا ہے، جس پہ روشن باطنِ ایام ہے
مزدکِیت فتنہ فردا نہیں، اسلام ہے!

جس پہ ایام،تاریخ اور تاریخ کے آنے والے واقعات کا دروازہ کھلا ہے اور جو قدرت کےان رازوں کو جانتا ہے اس بندےکو یہ معلوم ہے کہ کل ابلیسی نظام کیلئےخطرہ اشتراکیت نہیں ہوگی بلکہ اسلام ہوگا- پھر اس کے بعد کہتا ہے کہ :

جانتا ہوں مَیں یہ امت حامل قرآں نہیں
ہے وہی سرمایہ داری بندۂ مومن کا دِیں
جانتا ہوں مَیں کہ مشرق کی اندھیری رات میں
بے یدِبیضا ہے پیرانِ حرم کی آستیں
عصرِ حاضر کے تقاضاؤں سے ہے لیکن یہ خوف
ہو نہ جائے آشکارا شرعِ پیغمبر کہیں

اِس کے باوجود کہ اُمّت میں کئی خرابیاں، خامیاں اور کمزوریاں موجود ہیں لیکن ابلیس کہتا ہے کہ دنیا جس طرح گلوبل ویلج بن رہی ہے، علم جس قدر اپنی شدت سے واضح ہو رہا ہے مجھے یہ خطرہ ہےکہ کہیں اسلام کی حقیقت کادنیا کو پتہ نہ چل جائے-

الحذر! آئینِ پیغمبر سے سو بار الحذر
حافظِ ناموسِ زن، مرد آزما، مرد آفریں

’’الحذر‘‘کا مطلب گریز کرنا ہے ، بچ کے رہنا ہے خوف کھانا ہے ، کانپنا بھی ہوتاہے-بجلی کی کڑک سے جب بچہ کانپتا ہےتو اس کو بھی الحذر کہتے ہیں- شیطان کہتا ہےمیں اسلام کی حقیقت کے کھل جانے کے تصور سےہی کانپ جاتا ہوں-

موت کا پیغام ہر نوع غلامی کے لئے
نے کوئی فُغفور و خاقاں، نے فقیرِ رہ نشیں

اسلام غلامی کی ہرقسم اور ہرفرق کومٹا دیتاہے-یعنی اس کی نظر میں بادشاہ بھی اتنا ہی قابلِ احتساب ہے جتنا ا یک گدا-لیکن افسوس! ہمارے حکمران گھبراتے ہی اس لیے ہیں کہ ان کو احتساب کیلئے عدالتوں میں بلایا جاتا ہے- بقول اسلام کوئی غلام ہے یا آقا، کوئی بادشاہ یا فقیر جب احتساب ہو گا تو سب کا ہوگااور برابری کی بنیادپہ ہوگا-

کرتا ہے دولت کو ہر آلودگی سے پاک صاف
مُنعموں کو مال و دولت کا بناتا ہے اَمیں
اس سے بڑھ کر اور کیا فکر و عمل کا انقلاب
پادشاہوں کی نہیں، اللہ کی ہے یہ زمیں!

آج مغربی ادارے جو اسلامی نصاب کوختم کرنے کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں اس کی وجہ کیا ہے؟ ایک تو یہ ابلیس کا ایجنڈا ہے وجہ یہ ہے:

چشم عالم سے رہے پوشیدہ یہ آئِیں تو خوب
یہ غنیمت ہے کہ خود مومن ہے محرومِ یقیں
ہے یہی بہتر الٰہیات میں الجھا رہے
یہ کتابُ اللہ کی تاویلات میں الجھا رہے

میرے دوستو! اقبال اشتراکیت اورسرمایہ داری نظام کی بجائے اسلام کےاصولِ معیشت کی بات کرتے ہیں –

اقبال 1926ء میں پنجاب قانون ساز اسمبلی کےرکن منتخب ہوئے- اپنے ’’لیجیسلیٹو کیرئر‘‘ میں اقبال نے جو سب سے اہم کارنامے سرانجام دیے ہیں ان میں ایک اقبال کی فلور آف دی ہاؤس پہ قرار داد ہے جس سے بڑے بڑے کانپتے ہیں-کیونکہ وہ زرعی اصلاحات اور جاگیر دارانہ تسلط کے خاتمے کی ہے- اقبالؒ اپنے خطوط میں یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ یہ زمینیں جاگیرداروں نے تاریخی طورپہ کیسےحاصل کیں ؟ خواتین و حضرات اس پر بھی تحقیق کریں – آپ کومختصراً بھی عرض کروں کہ اقبالؒ یہ کہتے ہیں :

خدا آن ملتی را سروری داد
کہ تقدیرش بدست خویش بنوشت
بہ آن ملت سروکاری ندارد
کہ دہقانش برای دیگران کشت

پاکستان کی معیشت کا دارو مدار زراعت پر ہے اور پاکستان میں زراعت کی ترقی نہ کرنےکی وجہ جاگیردارانہ نظام اور زمین کی غیر منصفانہ تقسیم ہے-اس لئے اقبال کہتے ہیں کہ اللہ ان قوموں کو دنیا میں سرخرو کرتا ہے جواپنی تقدیر اپنے ہاتھوں سے لکھتے ہیں-خدا ان قوموں کو دُنیا کی حکمرانی نہیں بخشتا جس قوم کے دہقان اپنا حق حاصل کرنے کی بجائے دوسروں کے پیٹ بھرنے کے لئے اپنی زندگیاں کاشت کاری میں ختم کردیں-اسی لئے اقبال فرماتے ہیں کہ:

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
اُس کھیت کے ہر خوشئہ گندم کو جلا دو

جاری ہے ۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں