پاکستان کی شان صوبہ بلوچستان

قائد اعظم نے بلوچستان کو اپنا پسندیدہ ترین صوبہ قرار دیا ایک گروہ نہیں ہے بلکہ اس کے مجرم ہم من حیث القوم ہیں۔
بلوچستان ہمارے بانی پاکستان قائد اعظم کے دل کے بہت قریب تھا اور بلوچستان کی عوام بھی قائد اعظم محمّد علی جناح کو اپنا حقیقی لیڈر سمجھتی تھی جس کا ثبوت تاریخ کے اوراق میں جا بجا ملتا ہے۔ جس کی چند ایک امثال درج ذیل ہیں۔

قائد اعظم محمد علی جناح کے بلوچستان کے دوروں کا آغاز 1934کےوسط سے ہوا تھا، آپ نے اس پہلے بلوچستان کے دورے میں تقریباً دو ماہ قیام کیا، اس کے بعد تا دم وصال قائد اعظم نے کوئٹہ اور زیارت کے علاوہ مستونگ،قلات،پشین،ڈھاڈر اور سبی سمیت اندرون بلوچستان کے متعدد دورے کیے۔ جو قائد اعظم کی اس خطّے سے والہانہ محبّت کا واضح ثبوت ہے۔
قائد اعظم محمد علی جناح صدر آل انڈیا مسلم لیگ کی حیثیت سے 1943ءمیں جب کوئٹہ تشریف لائے تو انھیں اکیس توپوں کی سلامی دی گئی ۔ ان سے پہلے صرف وائسرائے ہند کو یہ پروٹوکول دیا گیا تھا۔14ستمبر 1945ء میں حضرت قائداعظم نے بلوچستان کا دورہ کیا۔ آپ کراچی میل کے ذریعے کوئٹہ تشریف لائے ہر سٹیشن پر والہانہ استقبال دیکھنے میں آیا۔اس انداز سے استقبال کی پہلے کوئی مثال نہیں۔ جھٹ پٹ سٹیشن پر لوگ کئی گھنٹوں پہلے موجود تھے جس میں تمام جمالی اور کھوسہ سردار اپنے قبیلوں سمیت حاضر تھے۔جناح کیپ کے نام سے شہرت پانے والی اور بابائے قوم کی شخصیت کا حصہ بن جانے والی قراقلی ٹوپی بھی آپ کو کوئٹہ ہی میں پیش کی گئی تھی۔ بلوچستان سےمحبت اور انس کایہ عالم تھا کہ قائد اعظم نے اپنی زندگی کے آخری ایام زیارت میں گزارے، علالت کے باوجود قائد نےکسی بڑے شہرجانے کی بجائے زیارت کو ترجیح دی، زیارت میں وقت گزارنا بلوچستان اور یہاں کے لوگوں سےقائدکی محبت کا مظہرہے۔قائد اعطم نے بلوچستان سے اپنی محبت کا ثبوت قیام پاکستان کے بعد سبی میں پہلے سالانہ دربار میں فروری 1948میں طبعیت کی خرابی کے باوجود شرکت کرکے بھی دیا المختصر یہ کہ بلوچستان میرے قائد کا محبوب صوبہ تھا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں