سوشلزم اور کمیونزم کی خامیاں

پہلی برائی سوشلزم اور کمیونزم کے پرچارک مارکسسٹ ‛خود نہیں جانتے کے سوشلزم کیاہوتا ہے۔ حتی کہ ستر سال تک سوشلزم کہ نام جس نظام کی پوجا کرتے رہے جونہی وہ نظام اپنی موت مرا کہنے لگے کہ یہ تو سوشلزم تھا ہی نہیں۔ جس نظام کو قائم کرنے کے لیے کروڑوں انسانوں کو قتل کیا گیا جب وہ نظام نافذ ہو کر موت سے دو چار ہو گیا تو کہنے لگے ‛ ہم نے سوشلزم کی جگہ کوئی اور نظام غلطی سے نافذ کر دیا تھا۔ معذرت چاہتے ہیں اب ہمیں دوبارہ موقع دیا جائے ہم صحیح نظام نافذ کریں گے۔
جب تک یونائیٹڈ سوویت سوشلسٹ ریپلکن موجودتھی کسی ایک بھی سرخ سویرے کے حامی نے نہیں کہا کہ یہ نظام سوشلزم نہیں ہے۔ جس نظام کو ستر سال تک پوجنے کہ بعد آدمی کو پتہ نہ چلے کہ یہ وہی نظام تھا یا کوئی اور اس نظام کے بارے میں اب کیسے معلوم ہو سکے گا کہ یہ وہی ہے۔ اب جو تخیلاتی پروازیں کی جارہی ہیں اگر یہ کہیں حقیقت کا روپ دھار لیں اور اگلی صدی گزرنے پر یہ غیر فطری نظام بھی اپنی موت آپ مر جائے پھر کیا ضمانت ہوگی کہ آپ پھر سے یہ کہنا شروع کر دیں کہ یہ سوشلزم نہیں تھا غلطی سے کچھ اور نافذ ہو گی تھا

 سوشلزم انتہائی غیر فطری اور نا قابل عمل نظام ہے۔ کہتے ایک وقت آئے گا کہ سارے سرمایہ دار خود ہی سر مائے سے تنگ آکر سرمایہ داری چھوڑ دیں گے اور پھر ایک نئی صبح طلوع ہو گی جس میں سب انسان پرانے سرمایہ اور مزدور مل کر محنت کش بن جائیں گے اور بغیر کسی لالچ کہ پیداواری عمل کا حصہ بن جائیں گے۔
 ڈاکٹر‛ انجنئر ‛مزدور ‛ مکینک‛ سیاستدان‛ وکیل ‛جج‛پارلیمنٹرین سب برابر معاشی مراعات لیں گے۔ یہ بات جس قدر کم مراعات یافتہ طبقے کے لیے پر کشش ہے اتنی ہی غیر فطری اور ناقابل عمل ہے۔ ہر شخص زندگی میں آسائشیں حاصل کرنے کے لیے محنت کرتا ہے۔ اگر اسے معلوم ہو کہ محنت سے راتوں کو جاگ کر پڑھنے کہ باوجود مجھے اتنی ہی آسائشیں حاصل ہوں گی جو مزدور کو حاصل ہیں تو وہ کیوں کر محنت کرے گا۔ ایک دکاندار صبح سے شام تک اس لیے محنت کر رہا ہوتا ہے کہ اس محنت سے اس کا مال زیادہ فروخت ہو گا‛ اسے زیادہ منافع ہو گا۔ اگر کاروبار کو نیشنلائز کردیا جائے تو یہ دکاندار کم چور ہو جائے گا چونکہ اسے معلوم ہے کہ جتنی بھی محنت کر لوں مجھے اتنی ہی آسائشیں حاصل ہوں گی جو کم محنت کرنے والے کو حاصل ہیں۔

انسان کے درمیان مطلق مساوات کا نظریہ از خود نا انصافی پر مبنی ہے۔ کیونکہ تمام انسان پیدائشی اعتبار سے صلاحیتوں میں برابر نہیں ہیں بلکہ کوئی ذہین ہے تو کوئی کندذہن کوئی مضبوط ہوتا تو کوئی کمزور‛ کوئی چاق وچوبند اور کوئی سست رو‛ آپ معاشی طور پر ان کو برابر کریں گے تو ان صلاحیتوں میں آپ پھر بھی ان کو برابر نہیں کر پائیں گے ۔ اس نا برابری کو کیسے دور کر پائیں گے لہذا مطلق مساوات کا نظریہ نا قابل عمل ہے ۔ جب تک آپ قادر مطلق بن جائیں آپ مطلق مساوات قائم نہیں کر سکتے۔

تمام سوشلسٹ ذہن رکھنے والے لوگ مذہب بیزار ہیں ۔ کیونکہ جب تک مذہب موجود ہے سوشلزم نافذ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اسلام نجی ملکیت کا حق دیتا ہے ۔ چنانچہ زکوۃ و عشر اور مرنے والے کی وراثت کی تقسیم کے قوانین مرتب کرتا ہے جو نجی ملکیت کے بغیر ممکن نہیں. اس لیے تمام سوشلسٹ مذاہب خصوصاً اسلام کے شدید مخالف ہیں . اسلامی اقدار میں ماں, بہن بیٹی, خالہ , پھوپھی کی تمیز سکھاتا ہے جب کمیونسٹ مذہب کا خاتمہ کریں گے تو یہ تمیز مٹ جائے گی۔ جن ملکوں میں مذہبی روایات کو کمزور کیا گیا وہاں بزرگ والدین کو اولڈ ہاوسز میں رکھا جاتا ہے اور کتوں کو بستروں پر ساتھ سلایا جاتا ہے . کیا یہ برائی نہیں ہے؟
مذہب کو کمزور کرنے کےبعد کونسی قوت ہو گی جو ہمیں بوڑھے ماں باپ کی خدمت پر مجبور کرے گی۔

مذہب سے بیزار لوگوں کے مطابق انسان اور بندر مشترکہ آباء واجداد سے “موزوں ترین کی بقاء(survival of the fittest) کے نظریے کہ مطابق معرض وجود میں آئے اور یہی نظریہ انسان میں بھی عمل پذیر ہے۔ پھر انسانوں میںsurvival Of fittest کے مطابق اگر طاقت ور کمزور پر ظلم کرتا ہے اور اسکو نیست و نابود کرتا ہے تو پھر تو یہ ایک فطری امر ہے جس کے مطابق سارے حیوانات معرض وجود میں آئے۔ پھر انسان کو انسان پر ظلم کرنے سے روکنے کے لیے آپ کے پاس کیا جواز ہے؟ کوئی جوازباقی نہیں ۔ یہ ہیں برائیاں جو سوشلزم اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
حقیقت میں سوشلزم ایک بڑا جیل خانہ ہے جہاں انسان کو جانوروں کی طرح قید کر کے انھیں روٹی کپڑے اور مکان کی سہولیات دے کر ان سے بیگار لی جاتی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں