بلوچ ثقافت میں براہوی اور پشتون ثقافت بھی شامل ہے

حصہ اول

ہم بلوچستان کی ثقافت کے حوالے سے اپنے قارئین کو بتلانا چاہتے ہیں۔کہ بلوچستان کے باسی کسی طبعیت کے مالک ہیں اور ان کے کیا کیا رسم و رواج ہیں۔ یہ تفصیل اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس سے بلوچ قوم کے مزاج کو سمجھنے میں مدد ملے گی ۔جیسا کہ قارئین کے علم میں ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی پہچان کے لیے اسے قوموں اور قبیلوں میں پیدا کیا ہے جو اپنے اپنے اوصاف رکھتے ثقافت کسی قوم یامعاشرے میں موجود ان رسم و رواج اور اقدار کو کہا جاتا ہے جن پر اسکے تمام افراد مشترکہ طور پر عمل کرتے ہوں۔ماہر عمرانیات کا بھی اس بات پر اتفاق ہے کہ تہذیب وثقافت قوموں کے تشخص کا اصلی سرچشمہ ہوتے ہے یا دوسرے الفاظ میںثقافت ایک معاشرے کی زبان‘ تربیت‘ روایات‘ صنعت اور فن جیسے جذبات سے معرضِ وجود میں آتی ہے۔بلوچستان کی ثقافت جاننے سے پہلے وہاں پر آباد قبائل کے بارے میں جاننا ضروری ہے ۔ جیسا کہ گذشتہ قسط میں بیان کیا تھا بلوچ خود کو حضرت امیر حمزہ  رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے کہتے ہیں جو عرب میں ایک بہادر اور جری شخص کے طور پر جانے جاتے تھے جبکہ ان کا خاندان بھی ایک عرب کے دیگر تمام قبائل سے ایک ممتاز حیثیت رکھتا تھا۔ عربی النسل ہونے کے ناطے بلوچوں میں بہادری اور شجاعت کا عنصر ہونے کے ساتھ ساتھ عربوں کے رسم و رواج بھی موجود ہیں۔وادی حلب سے چلنے والی یہ قوم جب سیستان سے ہوتی ہوئی یہاں وارد ہوئی تو وقت کے ساتھ ساتھ یہاں کے ماحول اور علاقائی صورتحال میں یہ دو شاخوں میں تقسیم ہو گئی ۔ جن میں سے ایک سلیمانی اور دوسرے مکرانی کہلاتے ہیں۔ جبکہ اس علاقے میں بسنے والے براہوی وسطی بلوچستان کے باسی ہیں۔ اب بلوچوں کے 18قبیلے جن میں بگٹی اور مری بھی شامل ہیں یہ سلیمانی ہیں۔سندھ کے تالپور بھی خود کو سلیمانی بلوچ کہلواتے ہیں۔بلوچستان میںتین بڑی قومیں بلوچ، پشتون اور براہوی آباد ہیں۔ بلوچی زبان بولنے والے بڑے قبائل میں رند، لاشار، مری، جموٹ، احمدزئی، بگٹی، ڈومکی، مگسی، خوسہ، پاک ہاشانی، دشتی، عمرانی، نوشیروانی، گچکی، بولیدی، سنجرانی اور خیدائی شامل ہیں۔ جبکہ یہ قبائل مزید چھوٹے قبیلوں میں بھی تقسیم ہیں۔براہوی زبان بولنے والے بلوچوں میں راہسانی، شاہوانی، سومولانی، بنگلزائی، محمد شاہی، لہری، بزنجو، محمد حسنی، زارکزئی یا زہری، مینگل اور لینگو قبائل شامل ہیں۔ یہ قبائل اگرچہ براہوی زبان بولتے ہیں مگر ان میں بیشتر بیک وقت بلوچی اور براہوی بولتے ہیں۔پشتو زبان بولنے والے بلوچوں میں کاکڑ، گلزائی، ترین ، مندوخیل، شیرانی، لیونی اور اچک زئی بڑے قبائل ہیںہر بلوچ کم از کم دو زبانیں بولتے ہیں جبکہ اکثریت کو اردو سمیت تین زبانوں پر عبور حاصل ہے۔ جبکہ کھچی اور سبی اضلاع میں سرائیکی اور سندھی بھی بولی جاتی ہے۔ قلات میں آباد بعض قبائل فارسی بولتے ہیں۔ بڑے قبیلے کا ہیڈ سردار کہلاتا ہے جبکہ چھوٹے قبیلے کا ہیڈ ملک ، ٹکاری یا میر کہلاتا ہے۔بلوچ قوم بھی پشتوں کی طرح اپنے تصفیے اور لڑائی جھگڑوں کے خاتمہ کے لیے اپنا عدالتی نظام رکھتی ہے جسے جرگہ کہتے ہیں۔ سردار اور ملک ضلعی جرگہ کے ممبر بھی ہوتے ہیں ۔انگریز دور آنے کے بعد انگریزوں نے یہاں پر اپنا قانون متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ ان کے معاملات سلجھانے کے لیے نہ صرف مقامی جرگے کے وسیع استعمال پر زور دیا بلکہ اضلاع ، قبائل اور صوبوں کے لیے جرگے مزید منظم کیے۔ اضلاع میں قبائل کے باہمی جھگڑوں کے لیے شاہی جرگہ ، گرمی میں کوئٹہ اور سردی میں سبی میں منعقد ہوتا تھا

جاری ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں