کمیونزم ،کیپٹلزم اور اسلام ایک تقابلی جائزہ

قسط نمبر 10

علامہ اقبال کی ایک مشہور ڈرامائی نظم ’’ابلیس کی مجلس شوریٰ‘‘ ہے جس میں شیطان کے پانچ مشیر اس کے ہمراہ بیٹھ کر دنیا بھر کی سیاست اور حالات و واقعات کو بیان کر رہے ہیں- اس میں سب سے پہلے شیطان اپنا افتتاحی بیان دیتا ہے اور پھر اس کے بعد پہلا مشیر، دوسرا مشیر، تیسرا مشیر، چوتھا مشیر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں-پانچواں مشیر مارکسسٹ انقلاب کی بات کرتا ہے کہ یہ مارکسسٹ انقلاب دنیا بھر میں پھیل گیا ہے جس کی وجہ سے ہمارا ڈوبنا طے ہے، ہم نہیں بچ سکتے-ابلیس یہ بات سن کر جلال میں آجاتا ہے اور سارے مشیروں کو چپ کروا کے اپنی لمبی چوڑی باتیں چھوڑتا ہے- اس کے بعد یہ کہتا ہے کہ تم مجھے مزدکیت سےڈراتےہو، اقبال کی زبان میں مزدکیت[3] بھی اشتراکیت کو کہتے ہیں وہ کہتا ہے کہ:

کار گاہ ِ شیشہ جو ناداں سمجھتا ہے اسے
توڑ کر دیکھے تو اس تہذیب کے جام و سبو!
دستِ فطرت نے کِیا ہو جن گریبانوں کو چاک
مزدکی منطق کی سوزن سے نہیں ہوتے رفو

یعنی جن گریبانوں کوفطرت نے چاک کیا ہو، کارل مارکس کی سوئی اور دھاگہ سے ان کو رفو نہیں کیا جاسکتا-

کب ڈرا سکتے ہیں مجھ کو اشتراکی کُوچہ گرد
یہ پریشاں روز گار، آشفتہ مغز، آشُفتہ مُو

ابلیس کہتاہے کہ میں کارل مارکس، اشتراکیوں اور مغرب کے جمہوری نظام سے نہیں ڈرتا-مجھے خدشہ اور ڈر اس بات کا ہے کہ:

ہے اگر مجھ کو خطر کوئی تو ا ُس اُمّت سے ہے
جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرارِ آرزو
خال خال اس قوم میں اب تک نظر آتے ہیں وہ
کرتے ہیں اشکِ سحرگاہی سے جو ظالم وضُو

پھر اس کے بعد کہتا ہے کہ :

جانتا ہے، جس پہ روشن باطنِ ایام ہے
مزدکِیت فتنہ فردا نہیں، اسلام ہے!

جس پہ ایام،تاریخ اور تاریخ کے آنے والے واقعات کا دروازہ کھلا ہے اور جو قدرت کےان رازوں کو جانتا ہے اس بندےکو یہ معلوم ہے کہ کل ابلیسی نظام کیلئےخطرہ اشتراکیت نہیں ہوگی بلکہ اسلام ہوگا- پھر اس کے بعد کہتا ہے کہ :

جانتا ہوں مَیں یہ امت حامل قرآں نہیں
ہے وہی سرمایہ داری بندۂ مومن کا دِیں
جانتا ہوں مَیں کہ مشرق کی اندھیری رات میں
بے یدِبیضا ہے پیرانِ حرم کی آستیں
عصرِ حاضر کے تقاضاؤں سے ہے لیکن یہ خوف
ہو نہ جائے آشکارا شرعِ پیغمبر کہیں

اِس کے باوجود کہ اُمّت میں کئی خرابیاں، خامیاں اور کمزوریاں موجود ہیں لیکن ابلیس کہتا ہے کہ دنیا جس طرح گلوبل ویلج بن رہی ہے، علم جس قدر اپنی شدت سے واضح ہو رہا ہے مجھے یہ خطرہ ہےکہ کہیں اسلام کی حقیقت کادنیا کو پتہ نہ چل جائے-

جاری ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں