کمیونزم ،کیپٹلزم اور اسلام ایک تقابلی جائزہ

قسط نمبر 08

یعنی مزدوروں کا طریقہ (اشتراکیت) بھی بادشاہوں اور سٹالن والا ہےاس کے علاوہ باقی اشتراکی ریاستوں میں جوظلم کیا گیا علامہ کے نزدیک وہ بھی بادشاہت والی ہوسِ زر کا ہی مصداق ہے -اس لئےعلامہ اقبالؒ نے ان دونوں کومسترد کیا-

اقبالؒ نے اشتراکیت اور سرمایہ دارانہ نظام دونوں کو رد کیا، اپنی معجز بیانی سے سرمایہ داری، جاگیر داری کی جڑیں اکھیڑ دیں- پھر اشتراکیت پہ بھی وہی تنقید کی جوانہوں نےسر مایہ دارانہ نظام پر کی-

اب یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اقبال کا معاشی آیئڈیل کیا ہے؟ اس پر گفتگو کرتے ہوئے اقبال کی ایک نظم جس میں بڑے کمال کا تغزل ہے؛ اس کے تین اشعار پیش کرنا چاہوں گا کیونکہ اس نظم میں علامہ نے دونوں (اشتراکیت اور سرمایہ داری)پہ تنقید کی ہے-بقول اقبالؒ:

ابھی تک آدمی صیدِ زبونِ شہرِ یاری ہے
قیامت ہے کہ انساں نوعِ انساں کا شکاری ہے
نظر کو خِیرہ کرتی ہے چمک تہذیبِ حاضر کی
یہ صناعی مگرجھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے
تدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا
جہاں میں جس تمدن کی بِنا سرمایہ کاری ہے

یہاں سرمایہ داری سے مراد سرمایہ دارانہ نظام نہیں بلکہ سرمایہ داری سےمراد نازِشیریں ہے اور نازِ شیریں سے مراد ہوسِ دولت ہے- اقبال اپنے آ یئڈ یل کی بات کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک متبادل خیال موجود ہے یعنی ان دونوں میں جو اچھائی ہےوہ اس اچھائی کوچن لیتاہے- اس پہ اقبال کا ایک وضاحتی خط ہے جس میں اقبال یہ کہتے ہیں کہ:

’’مجھ پہ یہ الزام لگا کہ میں اشتراکیت پسند ہوں تو میں اس کا جواب دینا چاہتا ہوں- یعنی کسی صاحب نے کسی اخبا رمیں میری طرف بالشویک خیالات منسوب کئے چونکہ بالشویک خیالات رکھنا میرے نزدیک دائرہ اسلام سے خارج ہونے کے مترادف ہے؛[1]اس واسطے اس تحریر کی تردید میرا فرض ہے- مَیں مسلمان ہوں میرا عقیدہ ہے اور یہ عقیدہ دلائل اور براہین پر مبنی ہے کہ انسانی جماعتوں کے اقتصادی امراض کا بہترین علاج قرآن مجید نے تجویز کیا ہے – اس میں شک نہیں کہ سرمایہ داری کی قوت جب اعتدال سے تجاوز کر جائے تو وہ دنیا کیلئے ایک قسم کی لعنت ہے – لیکن دنیا کو اس مضمرات سے نجات دلانے کا طریق یہ نہیں کہ معاشی نظام سے اس قوت کو خارج کر دیا جائے جیسا کہ بالشویک تجویز کرتے ہیں-قرآن کریم نے اس قوت کو مناسب حدود کے اندر رکھنے کیلئے قانونِ میراث ، حرمتِ ربا اور زکوٰۃ وغیرہ کا نظام تجویز کیا ہے- فطرتِ انسانی کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہی طریق قابلِ عمل بھی ہے- روسی با لشوازم یورپ کے عاقبت اندیش اور خود غرض سرمایہ داری کے خلاف ایک زبر دست ردِعمل ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مغرب کی سرمایہ داری اور روسی با لشو ازم دونوں افراط اورتفر یط کا نتیجہ ہیں- اعتدال کی راہ وہی ہے جو قرآن نے ہمیں بتائی ہے جس کا مَیں اوپر اشارۃً ذکر کر چکا ہوں ‘‘-

اقبال علیہ الرحمہ کی اِس جامع تحریر کے بعد کسی قسم کی غلط فہمی کی گنجائش نہیں رہتی  اور یہ سمجھنا از حد آسان ہو جاتا ہے کہ اقبال کا ’’اکنامک آئیڈئیل‘‘ کیا ہے – ضربِ کلیم کے حصہ ’’سیاسیاتِ مشرق و مغرب ‘‘ کی پہلی نظم ہی اشتراکیّت پہ تبصرہ کی صورت میں ہے جس میں اقبال نے مسلمانوں کو اشتراکیّت کے سامنے دامنِ خیرات پھیلانے کی بجائے قرآن میں ڈوبنے کی دعوت دی ہے اور بتایا ہے کہ جس معاشی مساوات کا غوغہ روس نے آج بپا کیا ہوا ہے معاشی مُساوات کا اِس سے بہت عظیم ماڈل 1300 سال قبل اسلام نے عطا کیا ہے :

قراں میں ہو غوطہ زن اے مردِ مُسلمان
اللہ کرے تجھ کو عطا جدّتِ کردار
جو حرفِ ’’قُل العفو‘‘ میں پوشیدہ ہے اب تک
اس دور میں شاید وہ حقیقت ہو نمو دار

جاری ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں