کمیونزم ،کیپٹیلزم ،اسلام ایک تقابلی جائزہ قسط نمبر 06

یعنی آدم اپنے سرمائےکی دوڑکے پیچھے آدمیت کا قاتل بن چکا ہے اور یہ شعر لوگوں کو تب سمجھ آیا جب’’اسٹالین آف یو ایس ایس آر‘‘نے سنٹرل ایشیاء کے انسانوں جن کی تعداد کچھ کے نزدیک تیس ملین سے زائد ہے؛کے خون سے ندیاں بہادیں- تیس ملین کا مطلب تین کروڑ ہے اس سے زائد انسان سنٹرل ایشیاء میں سٹالین کی ملٹری نے کچلے ہیں جس میں پورا قازقستان، تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان شامل ہے- اس پورے قہر آلودہ ماحول کی وجہ کیا ہے؟ کیا یہ سب سنٹرل ایشین اور تیموری ترکوں نے ’’یو ایس ایس آر‘‘ کوپلیٹ میں رکھ کر دیا تھا ؟ اور کیوں’’ یو ایس ایس آر‘‘ ان پرقبضہ کرنا چاہتا تھا ؟ کیا اپنے جی ڈی پی، اپنی بینکنگ گروتھ اور معاشی طاقت کے لیےکیا تھا؟ اگر نہیں –! تو پھر اس کے علاوہ کیا وجہ تھی؟

آدم از سرمایہ داری قاتل آدم شد است

اگر سرمایہ دارانہ نظام اسکندریت ہے تو اشتراکیّت بھی چنگیزیّت ہے ، بلکہ اسٹالن خود چنگیزیّت سے بد تر استعارہ ہے انسانی قتلِ عام کا- اب یہ شعر پڑھیں اقبال کا :

اسکندر و چنگیز کے ہاتھوں سے جہاں میں
سو بار ہوئی حضرتِ انساں کی قُبا چاک

جاوید نامہ میں سیّد جمال الدین افغانی کی زبان سے’’اشتراک و ملوکیّت‘‘ والے حصہ میں جو کچھ اقبال نے کہلوایا ہے وہ بھی اِسی تقابل و موازنہ پہ دالّ ہے کہ ملوکانہ لسّی اور اشتراکی مکھن ایک ہی برتن کے خراب دودھ سے بر آمد ہوئے ہیں-

ہر دو را جاں ناصبور و ناشکیب
ہر دو یزداں ناشناس، آدم فریب
زندگی ایں را خروج، آں را خراج
درمیانِ ایں دو سنگ آدم زُجاج
غرق دیدم ہر دو را در آب و گِل
ہر دو را تن روشن و تاریک دِل

جاری ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں