اسلام اور معاشرے میں پردے کا مقام

حجاب کے معاملے میں مختلف مکاتبِ فکر کی مختلف آراء ہیں۔ جدت پسند کہلانے والے افراد حجاب کو آنکھوں اور دل کا پردہ کہتے ہیں لیکن کیا صرف ان چیزوں کا نام پردہ ہے۔ جو جسم کا پردہ نہ کرسکے وہ آنکھوں اور دل کا پردہ کیا کرے؟
عورت چھپی ہوئی خوبصورتی ہے جو کہ حجاب میں ہی اچھی لگتی ہے۔حجاب اسلامی طرز زندگی کا حصہ ہے اور ہمیں سختی سے اسلامی تعلیمات کی پابندی کرنی چاہیے اور اسے سختی سے ہی لاگو کرنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے

۔ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ مسلمان ہی نہیں بلکہ ہر مذہب کے پیروکار اس مذہب کے قانون پر عمل کرتے ہیں اور دین اسلام تو سچا دین ہے اس لیے اسے ماننے والوں پر فرض ہے کہ وہ اس کے بارے میں کچھ سمجھ بوجھ رکھیں تاکہ اس طرح کے مسائل پیدا ہی نہ ہوں۔ سب اس بات سے آگاہ ہیں کہہ اسلام سے پہلے عورت کا معاشرے میں کیا مقام تھا؟ اسے جس قدر عزت اسلام نے دی، کسی اور مذہب نے نہیں دی اور پردہ کرنا تو عورت کی عظمت ہے اس لیے اس کا اصل مقام اور عزت پردہ کرنے میں ہے۔
پردے کے بارے میں یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ پردہ کرنا صرف عورتوں پر لازم نہیں بلکہ مردوں کو بھی پردہ کرنے حکم دیا گیا ہے۔ ”سورۃ النور” کی آیت نمبر 30 میں ﷲ تعالیٰ نے حکم دیا ہے” مسلمان مردوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں”۔ … اور ایک مرد کو دو عورتوں کے درمیان چلنے سے بھی منع فرمایا ہے۔

مرد کے لیے جائز نہیں کہ کسی بھی عورت پر دوسری نگاہ ڈالے، نبی کریمؐ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بہت شرم وحیا والے تھے اور آپؐ نے دوسروں کو بھی اس کا درس دیا۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ ’”’حضرت ابوسعید خدریؓ کا بیان ہے کہ آپؐ پردہ والی کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ باحیا تھے۔جب کوئی بات ایسی دیکھتے جو آپؐ کو ناگوار گزرتی تو ہم لوگوں کو آپؐ کے چہرے سے معلوم ہو جاتا۔‘”‘ صحیح بخاری، جلد سوم، حدیث نمبر 1055۔

قرآنی تعلیمات سب سے پہلے مردوں سے تقاضا کرتی ہیں کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں۔ اس کے بعد خواتین کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنے سینے کو ڈھانپے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ان تمام تعلیمات کا بنیادی مقصد ان اعلیٰ اقدار کو معاشرے کا اہم حصہ بنانا ہے۔ میرے خیال میں مرد و عورت کے مخصوص جسمانی خدوخال کو چھپانا حجاب کہلاتا ہے اور لمبا کوٹ یا قمیض، برقعہ اور نقاب اس مقصد کی تکمیل کر سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں