بلوچستان میں قتل کیے گئے اساتذہ۔۔۔۔

سن 2005ء سے شروع ہونے والی بلوچستان کی حالیہ سیاسی شورش یہاں کے تعلیمی ڈھانچے پر بھی اثرانداز ہوئی۔ گذشتہ ایک دہائی کے دوران درجنوں اساتذہ قتل کیے جا چکے ہیں۔ جب کہ سیکڑوں کی تعداد میں ڈر اور خوف کی وجہ سے اندرونِ صوبہ سے کوئٹہ اور کوئٹہ سے دیگر صوبوں کی جانب منتقل ہوئے۔ اساتذہ کو ٹارگٹ کرنے کا سلسلہ 2008ء سے شروع ہوا۔ یہ حملے نسلی، قومیتی اور فرقہ ورانہ بنیادوں پر ہوئے۔ چند ایک واقعات نجی دشمنی کے بھی پیش آئے، جس میں اساتذہ نشانہ بنے۔ بہرکیف، اس ساری کشمکش میں نقصان بلوچستان کے عام عوام کا ہوا۔

ذیل میں بلوچستان میں گذشتہ ایک دہائی کے دوران ٹارگٹ کر کے قتل کیے گئے اساتذہ کی ٹائم لائن مرتب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس ضمن میں اعدادوشمار کے لیے روزنامہ ’ڈان‘ کی ویب سائٹ کے علاوہ وکی پیڈیا اور چند دیگر نیوز ویب سائٹس کی مدد لی گئی ہے۔ جن کے حوالے ساتھ ہی درج کیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں انسانی حقوق کے عالمی ادارہ ہیومن رائٹس واچ نے2010ء بلوچستان میں اساتذہ پر ہونے والے حملوں کے حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی، جس میں جنوری2008ء سے اپریل2010ء کے دوران قتل کیے اساتذہ کی فہرست اور تفصیلات بھی دی گئیں۔ اس مضمون کے لیے مذکورہ رپورٹ سے بھی استفادہ کیا گیا۔

یہ رپورٹ ہیومن رائٹس واچ کی ویب سائٹ پر انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں دستیاب ہے۔ویب لنک مندرجہ ذیل ہے:

https://www.hrw.org/report/2010/12/13/their-future-stake/

attacks-teachers-and-schools-pakistans-balochistan-province

۔ عاشق عثمان1

مارچ 2008ء کوخضدار میں واقع ڈویژنل پبلک کالج کے پرنسپل عاشق عثمان کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا جب وہ نمازِ جمعہ کی ادائیگی کر کے اپنے دو بیٹوں کے ہم راہ کار میں سوار ہو کر سول کالونی کے نزدیک اپنے گھر واپس جا رہے تھے۔ عاشق عثمان کا تعلق پنجاب سے تھا۔

https://www.hrw.org

2۔ ناز بی بی

23 مارچ 2008ء کو جعفرآباد کے علاقہ اوستہ محمد میں انہیں سکول کے مرکزی گیٹ پر گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ بعدازاں معلوم ہوا کہ انہیں چند رشتے داروں نے ہی غیرت کے نام پر قتل کیا۔ناز بی بی اوستہ محمد کے فردوس کالونی میں واقع گرلز سکول میں استانی تھیں۔

https://www.hrw.org

3۔ محمد علی خان کاکڑ

5 اپریل2008ء کو انہیں میس میں کام کرنے والے ایک ملازم نے چھریوں سے وار کر کے قتل کر دیا۔ وہ لورالائی ریذیڈینشل کالج کے پرنسپل تھے۔ اپنے رویوں میں سخت گیر مشہور تھے مگر ان کے دور میں اس کالج نے بلوچستان میں اہمیت حاصل کرنا شروع کی اور گذشتہ کئی برسوں سے یہاں کے طلبا بلوچستان بھر میں ٹاپ کرتے آ رہے ہیں۔

4۔ پروفیسر صفدر کیانی

22 اپریل2008ء کو اُس وقت نشانہ بنایا گیا، جب وہ بلوچستان یونیورسٹی کے عین سامنے گرین ٹاؤن میں واقع اپنی رہائش گاہ سے معمول کی شام کی واک پر تھے۔صفدر علی کیانی کا بنیادی تعلق پنجاب کے شہر جہلم سے تھا۔ انہوں نے 1973ء میں پنجاب یونیورسٹی سے شعبہ باٹنی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور 1980ء میں پہلی باربطور لیکچرر بلوچستان یونیورسٹی جوائن کی۔ جہاں مختلف عہدوں پر کام کرتے ہوئے2005ء میں وہ پرووائس چانسلر مقرر ہوئے۔ ان کے قتل کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی۔

https://en.wikipedia.org/wiki/Safdar_Kiyani

5۔ سید غلام مصطفیٰ شاہ

6 جولائی 2008ء کو کوئٹہ میں ایری گیشن کالونی کے نزدیک، سریاب روڈ پر ایک ریٹائرڈ سرکاری استاد سید غلام مصطفی شاہ کو نامعلوم حملہ آوروں نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ وہ ضلع نصیرآبا دکے لیے پاکستان تحریک جعفریہ کے ضلعی صدر بھی تھے۔

https://www.hrw.org

6۔ عالم زہری

29 مارچ 2009ء کو ضلع قلات میں واقع ڈگری کالج سوراب کے پرنسپل عالم زہری کو آر سی ڈی شاہراہ پر اُس وقت گولیوں کا نشانہ بنایا گیا جب وہ بس کا انتظار کر رہے تھے۔ ان کی قتل کی وجہ سامنے نہیں آ سکی۔

https://www.hrw.org

7۔ انور بیگ

13جون 2009ء کو قلات میں واقع ماڈل ہائی سکول کے ایک سینئر سبجیکٹ سپیشلسٹ ٹیچر انور بیگ کو موٹر سائیکل پر سوار حملہ آوروں نے نو گولیوں کا نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا۔ مقتول اپنے سکول کی طرف جا رہا تھا۔ اس کا آبائی علاقہ لاہور تھا۔ بلوچ لبریشن آرمی نے قتل کی ذمہ داری قبول کی۔بی ایل اے کے ترجمان آزاد بلوچ کے مطابق بیگ کو اس لیے ہلاک کیا گیا کیوں کہ وہ سکول میں بلوچستان کا قومی ترانہ پڑھنے اور بلوچستان کا جھنڈا لہرانے کی مخالفت کرتا تھا۔2008ء میں بیگ کی رہائش گاہ پر نامعلوم افراد نے ہینڈ گرنیڈ بھی پھینکا تھا۔

https://www.hrw.org

8۔ خلیل محمود بٹ

17جون 2009ء کو خضدار میں واقع بلوچستان ریذیڈنشل کالج کے وائس پرنسپل خلیل بٹ کالج جار ہے تھے کہ راستے میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے انہیں ہلاک کر دیا۔

https://www.hrw.org

9۔ مرزا امانت علی بیگ

24 جون 2009ء کی صبح اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنی گاڑی میں کالج پہنچے۔ گاڑی سے اترتے ہی پہلے سے ان کی تاک میں موجود دومسلح موٹر سائیکل سواروں نے ان پر فائر کھول دیا۔ جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔پروفیسر امانت علی بیگ کامرس کالج کوئٹہ کے پرنسپل تھے۔ ان کا تعلق پنجاب سے تھا۔

https://www.dawn.com/news/880053

10۔ جاوید مہر

6 جولائی 2009ء کو مستونگ میں واقعہ گورنمنٹ پائلٹ سیکنڈری ہائی سکول کے پرنسپل اور ڈپٹی ضلعی آفیسر محکمہ تعلیم جاوید مہر کو‘ کوئٹہ روڈ پر اس وقت گولیوں کا نشانہ بنایا گیا، جب وہ اپنے گھر جا رہے تھے۔مہر جو نسلی اعتبار سے پشتون تھے، محکمہ تعلیم میں 37برس سے خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ کسی نے بھی قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

https://www.hrw.org

11۔ محمد حسن

23 جولائی 2009ء کو سریاب ملز میں واقع گورنمنٹ ہائی سکول کے پرنسپل، محمد حسن سکول جا رہے تھے کہ سریاب روڈ پر موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے فائرنگ کر کے موقع پر ہلاک کر دیا۔

https://www.hrw.org

12۔ غلام سرور

24 جولائی 2009ء کو کوئٹہ میں ڈگری کالج کے شعبہ کیمسٹری کے پروفیسر غلام سرور کو موٹر سائیکل پر سوار حملہ آوروں نے سریاب روڈ پر طارق ہسپتال کے قریب، ان کی رہائش گاہ کے سامنے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔

https://www.hrw.org

13۔ شفیق احمد خان، وزیر تعلیم

26 اکتوبر2009ء کی شام انہیں اُس وقت گھر کے پاس نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک تقریب سے واپس آرہے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق ایک مسلح شخص نے انہیں نہایت قریب سے نشانہ بنایا اور موقع سے فرار ہو گیا۔ ان کے قتل کی ذمہ داری بلوچ لبریشن یونائیٹڈ فرنٹ نے قبول کی۔ جس نے کچھ عرصہ قبل ہی اقوامِ متحدہ کے اہلکار جان سولیکی کے اغوا کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔ شفیق احمد خان کوئٹہ سے منتخب شدہ صوبائی اسمبلی کے رکن تھے۔ انہوں نے 1990ء کی دہائی میں سیاست کا آغاز میٹروپولیٹن کے ممبر کی حیثیت سے کیا۔ 2002ء میں وہ پہلی بار پیپلزپارٹی کے ٹکٹ سے کامیاب ہوئے۔دوبارہ2008ء میں کامیابی حاصل کی اور نواب اسلم رئیسانی کی حکومت میں صوبائی وزیرتعلیم مقرر ہوئے۔

https://www.dawn.com/news/965001

14۔ پروفیسر خورشید انصاری

5 نومبر 2009ء کی شام اُس وقت نشانہ بنایا گیا، جب وہ شام کی نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد کی جانب رواں تھے۔ ان کے قتل کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی۔خورشید انصاری، بلوچستان یونیورسٹی کے شعبہ لائبریری سائنس سے وابستہ تھے۔

https://www.dawn.com/news/501033

15۔ پروفیسر فضل باری

22 مارچ 2010ء کی صبح اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ سکول کے لیے روانہ تھے۔ بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان میرک بلوچ نے میڈیا کے نمائندوں کو فون کر کے اس قتل کی ذمہ داری قبول کی۔پروفیسر فضل باری، بلوچستان کے معروف ماہر تعلیم رہے ہیں۔ وہ بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔بعدازاں وہ بلوچستان کے معروف نجی تعلیمی ادارہ تعمیر نو سکول اینڈ کالج سے وابستہ ہوئے۔جہاں وہ بطور پرنسپل خدمات سرانجام دے رہے تھے۔

https://www.dawn.com/news/854922

16۔ پروفیسر ناظمہ طالب

27 اپریل 2010ء کو موٹر سائیکل پر سوار دو نقاب پوش افراد نے فائرنگ کر کے بلوچستان یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغِ عامہ کی پروفیسر ناظمہ طالب کو رکشے سے اتار کر گولیاں مار دیں۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق بی ایل اے نے اس کی ذمہ داری قبول کی۔ اسے کوئٹہ اور پسنی میں دو بلوچ خواتین اور مند و تمپ میں خواتین اور سیاسی کارکنان پر تشدد کا بدلہ قرار دیا۔

https://www.hrw.org

17۔ نذر احمد

27 اپریل 2010ء کو آواران کے علاقہ مشکے میں ایک نامعلوم شخص نے سکول ٹیچر نذر احمد پر فائرنگ کی۔ جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔

https://www.hrw.org

18۔ عبدالقدیر محمد شہی

5 مئی2010ء کو مستونگ میں موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ٹیچر عبدالقدیر محمد شہی کوہلاک کر دیا۔ پولیس نے میڈیا کو بتایا کہ مقتول شیعہ مسلک سے تعلق رکھتا تھا، یہ ایک فرقہ وارانہ قتل ہو سکتا ہے۔

https://www.hrw.org

19۔ سید ولی

8 مئی2010ء کو کوئٹہ کے زرعی کالج کا ایک لیکچرارسید ولی رحیم کالونی میں واقعہ اپنی رہائش گاہ میں مردہ حالت میں پایا گیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ اسے مارا پیٹا گیا،اور گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

https://www.hrw.org

20۔ چوہدری اشفاق

24 مئی2010ء کو ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر کے وائس پرنسپل چوہدری اشفاق اپنے گھر جا رہے تھے جب لسبیلہ، حب ٹاؤن میں آر سی ڈی شاہراہ پر ان کی گاڑی کو روکا گیا۔ نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے کار پر گولیوں کی بوچھاڑ کر کے انہیں ہلاک کر دیا۔

https://www.hrw.org

21۔ عبدالجلیل

25 مئی2010ء کو ایک ریٹائرڈ سکول ٹیچر عبدل جلیل کو موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم افراد نے اُس وقت گولیوں کا نشانہ بنایا، جب وہ مستونگ میں بینک سے پنشن کی رقم وصول کر کے آ رہے تھے۔ اس واقعہ میں اُن کے قریب موجود ایک آٹھ سالہ بچہ بھی ہلاک ہو گیا۔

https://www.hrw.org

22۔ عبدالعزیز راہی

4 اکتوبر2010ء کو انہیں خضدار کے آزادی چوک پہ نامعلوم مسلح افراد نے نشانہ بنایا اور قتل کر کے فرار ہو گئے۔ راہی، سیکنڈری ایجوکیشن سے وابستہ تھے۔ وہ سیکنڈری ایجوکیشن کے ڈائریکٹر بھی رہ چکے تھے۔ وہ براہوی کے ادیب بھی تھے۔ ان کے قتل کی وجہ معلوم نہیں کی جا سکی۔

https://www.dawn.com/news/568252

23۔ صبا دشتیاری

یکم جون 2011ء کی شام انہیں اُس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ سریاب روڈپہ معمول کی واک پر تھے۔ غلام حسین المعروف پروفیسر صبا دشتیاری، 1954ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ سن اَسی کی دہائی میں وہ بلوچستان یونیورسٹی کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں لیکچرر مقرر ہوئے۔ وہ بلوچی کے معروف ادیب اور شاعر تھے۔ انہوں نے کراچی کے علاقہ ملیر میں سید ہاشمی ریفرنس لائبریری کی بنیاد رکھی، جو بلوچی کی اب تک سب سے جامع اور مستند لائبریری سمجھی جاتی ہے۔وہ عمر کے آخری حصے میں سخت گیر قوم پرستانہ خیالات رکھتے تھے۔ جس کے باعث انہیں جان کا خطرہ بھی درپیش تھا۔

https://www.dawn.com/news/633370

24۔ مظفر حسین جمالی

25 مئی2012ء کی صبح اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے بھانجے اور دو بچیوں کے ساتھ اپنی گاڑی میں سکول روانہ تھے۔ اس حادثے میں ان کا آٹھ سالہ بھانجا بھی جاں بحق ہوا۔ جب کہ دونوں بچیاں زخمی ہوئیں۔ انہیں علاج کے لیے فوراً سی ایم ایچ(کمبائنڈ ملٹری ہاسپٹل) کوئٹہ منتقل کیا گیا۔ بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے ان کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ مظفر جمالی پاکستان کے خفیہ اداروں کے پے رول پر تھے اور تعلیم کی آڑ میں ایجنسیوں کے لیے کام کر رہے تھے۔ بعدازاں میڈیا میں رپورٹ ہوا کہ مظفر جمالی کی تدفین پاک فوج کی زیرنگرانی پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر کی گئی۔ مظفر جمالی کا بنیادی تعلق جعفرآباد سے تھا۔ وہ ایک طویل عرصے سے خاران میں ایک نجی تعلیمی ادارہ چلا رہے تھے۔

https://www.dawn.com/news/721643/

25۔ نذیر مری

18جون 2012ء کی صبح ارباب کرم روڈ پہ گھر سے سکول جاتے ہوئے نشانہ بنایا گیا۔ نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے ان پہ فائرنگ کی اور فرار ہو گئے، جس سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق نذیرمری کو نواب خیر بخش مری کا دست ِ راست مانا جاتا تھا۔ نذیر مری، کلی شیخان سکول کے پرنسپل تھے۔

https://tribune.com.pk/story/395940/

teacher-killed-in-quetta/

26۔ عبدالرشید

10جولائی 2012ء کو راستے میں نشانہ بنایا گیا۔ جس سے وہ جانبر نہ ہو سکے اور ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی جاں بحق ہو گئے۔ عبدالرشید کا تعلق مستونگ کے علاقہ شمس آباد سے تھا۔ وہ ایک سکول ٹیچر تھے۔

https://nation.com.pk/11-Jul-2012/

3-including-teacher-killed-in-balochistan

27۔ عبدالاحد

نامعلوم مسلح افراد نے انہیں 14نومبر2012ء کو نشانہ بنایا اور فرار ہو گئے۔ ان کے قتل کی وجہ معلوم نہ ہو سکی۔ عبدالاحد ایک پنجگور کے ماڈل ہائی سکول چتکان کے سینئرسائنس ٹیچر تھے۔

https://tribune.com.pk/story/466272/

teacher-shot-dead-as-two-people-lose-lives-in-balochistan/

28۔ عبدالرزاق

12جولائی 2013ء کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے قتل کی ذمہ داری بہ ظاہر کسی نے قبول نہیں کی۔ البتہ میڈیا میں یہ بات رپورٹ ہوئی کہ وہ بچیوں کی تعلیم کے حامی تھے اور اس کے لیے سرگرداں تھے، جس کے باعث انہیں علاقے کے رجعت پسندوں کی جانب سے جان کا خطرہ درپیش تھا۔عبدالرزاق بلوچ، ڈگری کالج خضدار میں اکنامکس کے لیکچرر تھے۔ وہ شہر میں ایک ٹیوشن سینٹر بھی چلاتے تھے، جہاں شام کے اوقات میں غریب بچوں اور بچیوں کو پڑھاتے تھے۔

https://www.rferl.org/a/pakistan-

girls-education-killed/25044072.html

29۔ زاہد آسکانی

3 دسمبر 2014ء کی صبح گوادر میں اس وقت نشانہ بنایا گیا، جب وہ سکول کی جانب رواں تھے۔ پولیس کے مطابق انہیں چہرے، سر اور گردن کے گرد سات گولیاں ماری گئیں۔ ان کے قتل کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی۔ زاہد آسکانی کو- ایجوکیشن کے حامی تھے اور انہوں نے سب سے پہلے گوادر میں اس کا رواج ڈالا۔ زاہد آسکانی اوسیئس سکول گوادر کے بانی پرنسپل تھے۔ان کا بنیادی تعلق پنجگور سے تھا۔ انہوں نے امریکہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور گوادر میں نجی تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھی۔ وہ گوادر میں پرائیویٹ سکول سسٹم کے بنیاد گزاروں میں سے تھے۔

https://tribune.com.pk/story/801678/

school-principal-shot-dead-in-gwadar/

30۔ بلقیس انور

میڈیا رپورٹس کے مطابق 26 مئی 2018ء کو نامعلوم مسلح افراد نے گاؤں شئے سی چی میں واقع ان کے گھر میں گھس کر فائرنگ کی۔ جس سے وہ موقع پر جاں بحق ہو گئیں۔ قتل کی وجہ ذاتی رنجش بتائی گئی۔بلقیس انور ایک سکول ٹیچر تھیں۔ وہ کیچ تربت کے علاقہ بل نگور سے تعلق رکھتی تھیں۔

https://tribune.com.pk/story/1720440/

1-female-teacher-gunned-kech-district/

یہ شعبہ تعلیم کے ان افراد کی فہرست ہے جو گذشتہ ایک عشرے میں قتل و غارت گری کا شکار ہوئے اور اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔30مئی2010ء کو شائع ہونے والی ’ڈان‘ کی ایک رپورٹ (https://www.dawn.com/news/880837)کے مطابق اس کے علاوہ درجنوں ایسے بھی ہیں جو مختلف حملوں میں زخمی ہوئے، ان کے اہلِ خانہ کو نقصان پہنچا یا جانی و مالی نقصان کا شکار ہوئے۔ ان میں ایک ڈگری کالج سریاب کے سابق وائس پرنسپل جمشید احمد ہیں، جن کے گھر پر 12 اپریل2009ء کو ہینڈ گرنیڈ سے حملہ کیا گیا، لیکن وہ محفوظ رہے۔ ایسا ہی ایک حملہ تعمیر نو کالج سے وابستہ پروفیسر ریاض اور پروفیسر فرقان کے گھروں پر بھی ہوا۔ اسی طرح کے ایک حملے میں ایک نجی کالج کے ڈائریکٹر نعمان احمد خود تو محفوظ رہے لیکن ان کی جوان بیٹی جاں بحق ہو گئی۔ بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایند سیکنڈری ایجوکیشن کے سیکریٹری حامد محمود کو 31 اکتوبر 2009ء کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں گولیاں ان کے سر میں لگیں مگر وہ بچ گئے، بعدازاں انہیں علاج کے لیے اسلام آباد کے الشفا انٹرنیشنل ہاسپٹل منتقل کیا گیا۔

یہ اعدادو شمار بلوچستان میں تعلیم کے مخدوش مستقبل کی نشان دہی کرتے ہیں۔ بلوچستان میں سوائے صحافت کے اور کوئی ایسا شعبہ نہیں، جس میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ اس شورش کے دوران مارے گئے ہوں۔ 2006ء سے 2016ء تک بلوچستان میں 44 صحافی بلوچستان میں قتل کیے گئے۔ جب کہ ایک استاد کسی بھی شورش میں براہِ راست نہ تو ملوث ہوتا ہے، نہ اس کا فریق۔ لیکن محض نسل، قومیت اور عقیدے کی بنیاد پر انہیں فریق مان کر نشانہ بنایا گیا۔

آئے دن بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات اس بات کو عیاں کرتے ہیں کہ بی ایل اے جیسی دہشتگرد تنظیموں نے بلوچستان کے امن کو تباہ کرنے کی زمہ داری لی ہوئی ہے۔ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ ایسے وقت میں نام نہاد انسانی حقوق کے علمبرداروں کو سانپ سونگھ جاتاہے۔بلوچستان میں استاد سے لیکر شاگرد تک ان دہشتگردوں کے ہاتھوں محفوظ نہیں ہیں استاد کو مار دیا جاتا ہے اور شاگرد کو ورغلا کر دہشتگردی کے راستے پر گامزن کیا جاتا ہے نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردارایسے واقعوں پر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں

جو غلطی آزادی کے نام پر تشدد کرنے والوں نے کی، اس کا ازالہ مشکل ہے۔ لیکن اگر آج بلوچستان کے سنجیدہ لکھاری، سیاسی کارکن اور انسانی حقوق کے علمبردار یہ احساس کرلیں کہ انہیں ایک پُر امن اور ترقی یافتہ بلوچستان چاہئے تو کچھ شک نہیں کہ وہ یہ نیک مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں کیونکہ عوام بھی یہی چاہتی ہے۔ عوام کی امنگوں کو تحریک کی شکل دینا اور تشدد کی سیاست کو بلوچستان سے ختم کردینا نئی نسل کا کام ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں