عبدالنبی بنگلزئی ، بلوچ قوم کا ایک ابدی دشمن :

تحریر : بامسار بلوچ

کوئی بھی قوم ایک درخت کی مانند ہے غلط و غلیظ فرزند اس درخت کی بیمار خشک شاخیں ہوتی ہیں جنہیں کاٹ کر الگ کردینا اس درخت کےلئے فائدہ مند ہوتا ہے تاکہ وہ بیماری پوری درخت یعنی کہ پوری قوم کو نہ جکڑ لے , ویسی غلطیاں ہر معاشرے و قوم میں ہوتی ہیں لیکن قوم کے باشعور و سنجیدہ افراد کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ ان بیماریوں اور برائیوں کی تشہیر کرنے کے بجائے ان کے خاتمے کےلئے اپنا کردار ادا کریں کیونکہ اگر گند کو صاف کرنے کے بجائے پھیلا دیں گے تو پورے معاشرے میں بدبو پھیل جائے گی اور معاشرہ شعوری و فکری طور پر ناکارہ ہو جائے گا جس سے معاشرے کی فکری ارتقائی عمل رک جائے گا۔۔

اسی تناظر میں اگر عبدالنبی بنگلزئی کو اس درخت کا غلیظ شاخ قرار دے دوں تو بالکل بھی میں غلط نہیں کہلاؤں گا کیونکہ وہ بھی بلوچ قوم کےلئے ایک بیمار اور خشک شاخ تھا جس کا کٹنا اور گر جانا بلوچ قوم کےلئے انتہائی نیک شگون اور فائدہ مند ثابت ہوا. ویسےکسی بھی انسان کی رحلت پہ خوشیاں تو نہیں منانی چائیے مگر کچھ لوگ جو معاشرے میں بدامنی و انتشار پھیلانے میں ہمیشہ مگن تھے جن کی وجہ سے پورا معاشرہ و بلوچ قوم کرب و اضطراب میں مبتلا تھا ان کے جانے سے یقینا دلی تسکین ہوتی ہی ہے۔

عبدالنبی بنگلزئی جو اپنے کئے اور اپنے فرسودہ عزائم کی بھینٹ چڑھ گیا مگر اس دہشت گرد عناصر کی شہادت پر انسانی حقوق کے چیمپئن اللہ نذر , براھمدغ اور دیگر نے اسے خراج عقیدت پیش کی ؟
خراج عقیدت آخر کس خوشی میں؟
خراج عقیدت آخر کن کارناموں پر ؟
یہی کہ انہوں نے بلوچ علاقوں میں امن و استحکام کو سبوتاژ کیا ؟
اس لئے کہ انہوں نے بے گناہ پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنایا ؟
اس لئے کہ انہوں نے بلوچستان میں ریاست مخالف سرگرمیوں کو فروغ دی ؟
اس لئے کہ انہوں نے بلوچ نوجوانوں کو ریاستی فورسسز کے خلاف بھڑکایا ؟
اس لئے کہ انہوں نے ترقیاتی منصوبوں کے آگے رکاوٹیں ڈالی ؟
اس لئے کہ انہوں نے معصوم نوجوانوں کو دربدر کروایا؟
یا پھراس لئے کہ وہ بلوچ معاشرتی ارتقا کے سفر میں رکاوٹ بنتا رہا ؟
اگر یہ لوگ 2002 سے ترقی کی مخالفت نہ کرتے, اگر یہ ترقیاتی منصوبوں کے آگے رکاوٹ نہ بنتے تو ان سب منصوبوں کی تکمیل کے بعد مقامی لوگوں کے معیار زندگی میں نہ صرف بہترین تبدیلی آجاتی بلکہ خوشحالی اور آسودگی کا ایک انقلاب برپا ہوا ہوتا مگر بین الاقوامی مافیاز پاکستان میں خوشحال اور محفوظ مستقبل دیکھنے کے خواہاں نہیں , اسی لئے انہوں نے بلوچستان میں نام نہاد آزادی کی تحریک پلانٹ کی ہوئی ہے ,یہ صرف دکھاوے کی تحریک ہے پیسوں کی طمع اور لالچ کا گیم اور دھوکہ ہے باقی اس تحریک میں کوئی سچائی نہیں .
ایک نام نہاد گوریلا جو بلوچستان کو دہشت گردی اور بد امنی کی آگ میں جھونکتا رہا اس کو شہید کہنا اور خراج عقیدت پیش کرنا تمسخر کے علاوہ کچھ نہیں ! ! !
شہید تو کجا یہ تو انسان کہلانے کے بھی حقدار نہیں ! ! ! کہتے ہیں بین الاقوامی دوست اور دشمن کبھی بھی مستقل نہیں ہوتے ان کو فقط اپنے مفادات سے غرض ہوتا ہے
افغانستان کے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر سگریٹ کے کش لگاتے ہوئے آزادی کا ڈھونگ رچھا کر یہاں بے گناہ لوگوں کو مرواتا رہا ,بہکاتا رہا, ملک دشمن ایجنٹوں کی ایما پر سب کچھ کرواتا رہا پھر کہانی کا کلائمکس بدل گیا تو آخر میں انہی کے ہاتھوں زبح ہوا ! نہ کہ شہید ہوا اور خراج عقیدت بھی پیش کی گئی ؟ واہ ۔۔۔۔۔۔!
مبینہ طور پر افغانستان میں قتل ہونے والے عبدالنبی بنگلزئی کے واقعے کے بعد باہر بیٹھے آذادی کے نام پر عیاشی کرنے والوں کو میں ایک بات ضرور کہتا ہوں کہ انڈیا,ایران اور افغانستان اپنے وقتی علاقائی ,سیاسی اور معاشی مفادات کیلئے ان کو استعمال تو ضرور کررہے ہیں مگر یہ ممالک ان کے خیر خواہ نہ کبھی تھے نہ ہی رہینگے اور بلاآخر انجام بالاچ مری,کریمہ بلوچ اور عبدالنبی بنگلزئی جیسا ہی ہوگا .کیونکہ اب زمینی حقائق اور بین الاقوامی سطح پر حالات بدل چکے ہیں اب شاھد ان انگلیوں میں گنے ہوئے کارتوسوں کی ضرورت ہندوستان, ایران اور افغانستان کو پیش نہ آئے اب ان کے دن گنے جا چکے ہیں یہ چند کیڑے مکوڑے باقی جو رہتے ہیں جنہیں کسی بھی وقت کچلا جاسکتا ہے۔
بلوچ تو اب آبرومندانہ شناخت کے ساتھ آبرومندانہ زندگی گزارنا چاہتا ہے اب بلوچ کو سماجی اور اقتصادی انصاف مل رہا ہے، غیرت مند بلوچ ان کے بین الاقوامی پیسوں اور مراعات کی جنگ کا نہ کبھی حصہ تھا نہ ہے نہ ہی رہے گا۔
پاکستان زندہ باد
بلوچستان پائندہ باد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں