مکران کے تین سرحدی مقامات پر بارڈر ٹریڈ مارکیٹ کی منظوری دی ہے, زبیدہ جلال

وفاقی وزیر دفاعی پیداوار زبیدہ جلال نے کہا ہے کہ پاک ایران سرحدی ایریاز کے مکینوں کو ریلیف دلانے کیلئے وزیراعظم پاکستان اور سدرن کمانڈ بلوچستان سے بات کی جائیگی زعمران جالگی گربن دیرک جاہ بارڈر پوائنٹ عبدوئ چک آب مند اور کنٹانی در گوادر میں اشیائے خوردنی کی عدم دستیابی سے لوگوں کو درپیش مسائل کا ہمیں ادراک ہے جلد لوگوں کو ریلیف دلائیں گے. یہ بات انہوں نے سرکٹ ہائوس تربت میں جمعیت اہلحدیث مکران کے رہنما حافظ ناصرالدین کی قیادت میں علاقائ معتبریں کے نمائندہ وفد سے ملاقات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کہی ۔۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاک ایران سرحد سے ملحقہ مقامات پر قانونی طریقے سے بارڈر ٹریڈ شروع کرانے کیلئے بارڈر مارکیٹ قیام کی وفاقی جکومت سے منظوری کروائ ہےگبد اور ردیگ کے سرحدی راہدراری سے ملحقہ مقامات پر بارڈر مارکیٹ سائت کی نشاندہی کردی گئ ہے مطلوبہ بارڈرمارکیٹ اراضی جصول کیلئے حکومت پندرہ لاکھ روپے فی ایکڑ معاوضے دے رہی ہے بارڈر مارکیٹ قیام سے سرحدی علاقوں کے لوگوں کو لیگل طریقے سے تجارت کی سہولیات فراہم ہونگی ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں عوام نے ووٹ دیکر پارلیمنٹ میں نمائندگی کی جو ذمہ داری سونپی ہے ہم سرحدی علاقوں کے مکینوں کو مایوس نہیں ہونے دینگے جمعیت اہلحدیث بلوچستان کے نمائندہ وفد کی قیادت کرتے ہوئے صو بائ ڈپٹی جبرل سیکریٹری حافظ ناصر الدین نے بارڈر کی بندش کے حوالے سے وفاقی وزیر کی توجہ مبذول کراتے ہوئےکہا کہ مکران ڈویژن میں انڈسٹری اور روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے علاقے کے لوگ صدیوں سے محدود پیمانے ہر اشیائے خوردنوش اور پٹرول ڈیزل زرعی مقاصد کیلئے ہمسایہ ملک سے لانے پر مجبور ہیں بارڈر کی بندش سے علاقے میں بیروزگاری اور غربت کی شرح خطرناک حد تک اضافہ ہونے سے بارڈر ایریاز کے لوگ شدید معاشی مشکلات سے دوچار ہوچکے ہیں انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے لیگل بارڈر ٹریڈ کی منظوری اور بارڈر مارکیٹ قیام کیلئے کوشیش کرنے پروفاقی وزیر زبیدہ جلال سدرن کمانڈ بلوچستان لیفٹننٹ جنرل سرفراز علی کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا وفاقی وزیر نے سرحدی علاقے کے لوگوں کو ریلیف دلانے کیلئے تمپ مند بلیدہ میں کھلی کچہریوں کا بروقت انعقاد کا درست فیصلہ عوامی نمائندگی کی عکاسی کرتاہے لیکن بارڈر ایریاز کے لوگوں کی خواہش ہیکہ کہ بارڈر مارکیٹ قیام تک ہمیں محود پیمانے پر اشیائے خوردبوش اور ضروریات کیلئے پٹرول ڈیزل لانے کی اجازت دی جائے تاکہ مکران کے بارڈر ایریاز کے لوگ اہنا روزگار جاری رکھ سکیں ۔۔زبیدہ جلال نے نمائندہ وفد کو یقین دیانی کرائی کہ وہ سدرن کمانڈ بلوچستان اور وزیر اعظم سے رابطہ کرکے بارڈر ایریاز کے لوگوں کو ریلیف دلانے کیلئے محدود پیمانے پر ہٹرول ڈیزل اورضروریات زبدگی کیلئے اشیائے خوردنوش لانے کی اجازت کا جو فارمولہ مقامی افراد کی مشاورت سے سدرن کمانڈ بلوچستان نےگزشتہ دنوں گوادر کھلی کچہری میں اعلان کیا تھا اس فارمولے کے تحت زعمران جالگی گربن دیرک جاہ عبدوئ چک آب مند اور کنٹانی در گوادر کے لوگوں کو بھی ریلیف دلانے کی کوششیں کی جائنگی زبیدہ جلال نے کہاکہ وزیر اعظم پاکستان نے جنوبی بلوچستان کے لوگوں کی احساس محرومی کے ازالے اور انفراسٹرکچر کے بنیادی سیولیات فراہمی کیلئے سائوتھرن بلوچستان پیکیج کی منظوری دی ہے اس پیکیج کا مقصد گزشتہ دس سالوں کے دوران انسرجنسی سے متاثرہ علاقوں میں بحالی امن کیلئے سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ قربانیاں دینے تعمیر نو کے منصوبوں اورقومی دھارے میں شامل ہونے والے علاقوں کے مکینوں کو سائوتھرن بلوچستان پیکیج سے بھرپور طریقے سے مسفید ہونے کے مواقع میسر کرینگے ۔جمعیت اہلحدیث بلوچستان کے نمائندہ وفد میں شامل صوبائ ڈپٹی جنرل سیکریٹری حافظ ناصرالدین میر یار محمد زعمرانی کہدہ الطاف محمد امین اور دیگر قبائلی عمائدین نے بارڈرایریاز کے لوگوں کے مسائل حکام بالا تک پہنچانے اور عوامی مسائل سے آگہی کیلئے کھلی کچہریوں کے انعقاد پر وفاقی وزیر زبیدہ جلال کا شکریہ ادا کیا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں