مند میں ادبی سرگرمیاں بحال,ملا فاضل کی یاد میں تاریخی ادبی پروگرام

مند کی تاریخ میں کئی سال بعد اوپن ادبی پروگرام،ہزاروں افراد کی شرکت،بے مثال نظم وضبط،30سال بعد مبارک قاضی کی مندکی سرزمین پر آمد،مبارک قاضی کو دیکھ کر لوگوں کا والہانہ استقبال،محبت وانس کا اظہار۔مندمکران کی شخصیت میر فداحکیم رند کے زیراہتمام بلوچی زبان کے کلاسیکل شاعر ملافاضل کی یاد میں سورومند میں شانداراورتاریخی ادبی پروگرام منعقد،پہلے حصے میں ملا فاضل کی شاعری اور فن پر مقالے پیش،دوسرے حصے میں مشاعرہ اورآخرمیں میوزیکل پروگرام کا انعقاد کیا گیا،پروگرام کے دوران آرٹ نمائش کا بھی اہتمام کیاگیا،پروگرام میں تربت سمیت مکران سے ہزاروں افراد شریک رہے،مشاعرہ اورمحفل میوسیقی سے لوگ خوب محظوظ رہے،مہمانوں کو یادگاری شیلڈبھی پیش،کئی سالوں بعد مند کی سرزمین پر شانداراورتاریخ سازادبی پروگرام میں لوگوں کا جوش وجزبہ دیدنی تھا۔تفصیلات کے مطابقمندمکران کی معروف سیاسی وسماجی شخصیت میر فداحکیم رند کے زیراہتمام بلوچی زبان کے نامورادیب اورکلاسیکل شاعر ملافاضل رند کی یاد میں ہائی سکول سورومند کے گراؤنڈپرکئی سالوں بعد پروقارادبی پروگرام کاانعقاد کیا گیا۔پروگرام کے پہلے حصے میں ادباء کی جانب سے ملا فاضل کے شاعری اور شخصیت پر مقالے پیش کیئے گئے جس میں پروگرام آرگنائزرمیرفداحکیم رند،مشہو رشاعراورادیب اسحاق خاموش،خلیل تگرانی،صدیق صلاح،درجان محب،حمید یوسف اوردیگر نے تقریر اورمقالہ پڑھ کرملافاضل رند کی شاعری،ادبی خدمات اورشخصیت پرروشنی ڈالی۔ پروگرام کے دوسرے حصے میں مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا،مشاعرے میں مشہورشاعر وادیب مبارک قاضی،اسحاق خاموش،خلیل تگرانی،ڈاکٹرعبدالحکیم رند،منیررہشون،جہانزیب مندی،حاجی نور،چراغ حاجت،انورعاد ل،اسلم صادق،مطلب ا رمان،عنایت سلیم، جنیدگہرام اوردیگر شعراء نے اپنے خوبصورت اشعار سنا کر حاضرین مجلس سے خوب داد سمیٹی اورآخرمیں میوزیکل پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی،میوزیکل پروگرام میں مشہورفنکارعارف بلوچ، شاہ جہان داؤدی،خیرجان باقری،سیدنوربخش،پہلوان عظیم،حسین بہرام،نزیردوست اورآسمی بلوچ نے اپنے طوطی لسان آواز سے دیوان سجا کر لوگ خوب محظوظ رہے۔پروگرام کے دوران سینئرآرٹسٹ شریف قاضی اورجان بلوچ اورمند ہائی سکول کے ڈرائینگ ٹیچر کی پینٹنگ نمائش کیلئے رکھی گئی تھیں،پروگرام میں مکران سمیت بلوچستان سے ہزاروں افراد شریک رہے،مشاعرہ اورمحفل میوسیقی سے لوگ محظوظ رہے،مہمانوں کو یادگاری شیلڈبھی پیش،کئی سالوں بعد مند کی سرزمین پر شانداراورتاریخ سازادبی پروگرام میں لوگوں کا جوش وجزبہ دیدنی تھا۔اس موقع پر مند سول سوسائٹی کے صدرحاجی حنیف رند،وھیم بہرام رند،مہیم بہرام رند،بابویعقوب اورمند کے دیگرسیاسی وسماجی اورادبی شخصیات بڑی تعدادمیں موجود تھیں۔ سماجی و ادبی حلقوں کی طرف سے میر فدا حکیم رند کو ملا فاضل کی یاد میں عظیم الشان ادبی پروگرام کے انعقاد پر دلی مبارک باد پیش کرتے ہوئے اس عمل کو سراہا گیا اور امید ظاہر کی گئی کہ میر فدا حکیم رند کی طرح دیگر ادب دوست شخصیات بھی بلوچی زبان کے نامور ادیبوں کو اسی طرح یاد کرتے رہیں گے۔بلوچی زبان کے عظیم شاعراورادیب مبارک قاضی نے ملا فاضل کے مقبرہ کا افتتاح کردیا،فاتحہ پڑھی گئی،اس موقع پرمیر فداحکیم رند،اسحاق خاموش،خلیل تگرانی اور سیاسی وادبی شخصیات موجود تھے،واضح رہے کہ ملافاضل کا مقبرہ کچھ سالوں سے ٹوٹ پھوٹ کاشکارتھا،جسے میر فداحکیم رندنے اپنے ذاتی اخراجات سے ٹائل لگواکر مرمت کروایاہے۔ میرفدا حکیم رندنیمند سول سوسائٹی،مکران سول سوسائٹی،تربت کے صحافیوں،فنکارادیب اورشعراء کو مند آمد پر انکا شکریہ اداکیا۔ادبی حلقوں نے نامور بلوچ شاعر ملا فاضل کی مہر و وفا کی سرزمین پر مند کے فرزند سماجی وسیاسی رہنمامیر فدا حکیم رند نے عظیم کلاسیکل شاعر ملا فاضل سے منسوب اس کی شاعری پر ایک فقیدالمثال تقریبکا انعقاد کرکے فاضل ازم کی آبیاری کی ہے یقینا مند کے فرزند ہونے کے ناطے انہوں نے مند کی مٹی کا قرض ادا کردیاہے جس پر بلا شبہ وہ قابل ستائش ہیں، مند کے مکینوں کو ملا فاضل اورملاقاسم پر فخر ہے اس تاریخی پروگرام سے بلوچ قوم کی نئی نسل کو ملا فاضل کے شاعری سے روشناس ہوا اور فاضل ازم مکران بھر میں رچ بس گیا ہے۔مند جیسے دور دراز علاقے میں ادبی پروگرام کا انعقاد سے علاقہ مکینوں کو تفریح کے ساتھ ساتھ معلومات فراہم ہوا اور ایک خوشگوار ماحول پیدا ہوا ہے کی مثبت اثرات گہرے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں