بلوچ قوم اب ڈاکٹر اللہ نذر کے حامی دہشتگرد تنظیموں کے بلوچ نسل کش اتحاد کے بیانیے کو مسترد کرچکی ہے

نام نہاد بلوچ لوٹ مار تحریک کو تولنے یا اس پر تبصرہ کرنے سے پہلے ہمیں اس معاشرے کا جائزہ لینا ہوگا جہاں ان کے اثرات رہے ہیں، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ اس سے معاشرے میں کیا بگاڑ پیدا ہوا، کہاں اور کیسے پیدا ہوا؟
زیادہ دور نہیں، آج سے پندرہ سال پہلے چلے جاتے ہیں ان علیحدگی پسند گروہوں نے ہر طرف یہ پرچار کیا ہوا تھا کہ آزاد بلوچستان ایک حقیقت ہے ,کچھ نوجوان دانستہ اور کچھ غیر دانستہ طور پر اس عالمی گیم کے شکنجے میں آگئے۔ یہ اس وقت تھا جب بلوچستان تعلیمی میدان میں بہتری کی جانب بڑھ رہا تھا، تعلیمی ادارے آباد ہورہے تھے، لوگ علم و آگہی کی طرف محو سفر تھے مگر دیکھتے ہی دیکھتے نواب بگٹی کے قتل کو جواز بنا کر انڈیا نے سازشی اور ڈرامائی انداز میں حالات خراب کروائے، قوم پرستی اور نفرت کو ہوا دی گئی روایات اور بلوچ تہذیب کے پر نوچ لئے گئے اخلاقی نقطہ نگاہ سے ہم نچلی سطع پر آگئے ساتھ ساتھ مادی اور معاشی طور پر ہم پستی کے دلدل میں پھنستے چلے گئے!
جن گھروں کے چولھے بمشکل چلتے تھے ان تنظیموں کی انڈیا کے ساتھ ملی بھگت سے وہ گھر اجاڈ دئیے گئے، جس نوجوان کے ہاتھ میں قلم ہونا تھا ان کو بندوق تھما کر زبردستی پہاڈوں کی طرف ورغلایا گیا، جو مرد گھر کے واحد کفیل تھے وہ بھی نہ چاہتے ہوئے اس آگ کی لپیٹ میں آتے گئے۔ معاشرے میں انتشار پھیل گیا بد امنی جڑ پکڑنے لگی لوگ ریاست کے خلاف نہ جانے کی پاداش میں مخبری کی سندیں وصول کرکے شہید ہوتے گئے
ان نام نہاد قوم پرستوں کا دوغلا پن اور ان نام نہاد کرائے کے قاتلوں نے اپنی نجی اور سیاسی مقاصد کی خاطر متوسط طبقے کو باہم لڑایا، بھائی کو بھائی سے اور بلوچ کو پٹھان اور پنجابی سے لڑا کر بلوچستان کو اندھیروں میں دھکیلا گیا۔ ان کے پیام موت سے تعلیمی اداروں میں اکیڈمک اسٹاف کے پورے کے پورے کھیپ یا تو شہید کئے گئے یا ان سے ڈر کی بنا پر وہ صوبہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے جس سے تعلیمی ادارے ویران ہونے لگے طلبا و طالبات کو سرکلوں میں پیسوں اور آزادی کا جھانسہ دے کر پھنسایا گیا جس سے ہزاروں روشن گھروں کے چراغ بجھ گئے ، نان بھائیوں سے لے کر حجاموں تک کا قتل عام کیا گیا، غیر بلوچ مزدوروں کے قتل عام کو جائز قرار دیا گیا .
بلوچ کی چادر و چار دیواری کو بلوچ ہی سے شدید خطرہ لاحق ہوا کیونکہ رات کو یہ نام نہاد تنظیموں کے کارندے گھروں میں زبردستی گھس کر عورتوں کے سامنے مردوں کو اٹھا کر اگلے دن لفافے کے ساتھ اسکی لاش پھینکتے تھے اور اخبارات کی شہ سرخیوں میں ڈاکٹر اللہ نظر اور دیگر فخریہ قبولیت کے دعوے کرتے تھے جس سے شدید خوف و ہراس پھلنے لگا لوگ یا تو گھروں میں محصور ہونے لگے یا پھر ان چوروں کے ڈر سے علاقے چھوڑنے پر مجبور ہوئے لوگ اپنے کھیتوں اور کاروبار سے دور ہوتے گئے بلوچ کی زندگی یا تو کھیتی باڑی یا بارڈر ٹریڈ یا پھر گاوں میں مال مویشی پالنے پے منحصر تھا مگر وہ سب فاقہ کشی پر مجبور ہوئے جس سے بھوک اور مفلسی نے جھنڈے گھاڑنا شروع کیا!
ویسے کہا جاتا ہے کہ موت اور بھوک کا ذمہ دار ہمیشہ یا تو قدرت یا پھر سماج سے مشروط ہے مگر بلوچ کیلیے یقینا اس کے زمہ دار ان نام نہاد قوم پرستوں کی بنائی گئی نام نہاد آزادی کی تنظیمیں ہیں جنہوں نے صرف معاشرے میں نفرتوں کو ہی فروغ دیا ہے جس نے ہمیشہ موت کے بازار گرم رکھے ہیں ان نام نہاد تحریک کے کارندوں نے سماج میں مکروہ مقاصد کی تکمیل کیلئے تشدد اور ڈکیتی کی راہیں اپنائیں، قوم پرستی، خود پرستی اور پیٹ پرستی بن گئے، انکی قوم پرستی محض انسانیت سے جنگ تھا ,امن و سلامتی کے خلاف جنگ، بھوک اور افلاس پھیلانے کا جنگ، انتشار اور سوزش پیدا کرنے کا جنون۔
جب معاشرے میں اس طرح من گھڑت تحریکیں مسلط کرنے کی کوشش میں ہزاروں بے گناہوں کا قتل عام کیا جاتا ہے تو وہاں ریاست اور حکومت تہذیب و تمدن کی گود کو اس طرح اجڑنے نہیں دیتا ریاست ماں کے برابر ہوتی ہے اور اپنے ہر شہری کی حفاظت کرنا جانتی ہے اور وہ اسکی حفاظت کیلئے آخری لیول تک جا سکتی ہے اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاست نے ان شدت پسندوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن شروع کئے جس سے وہ کمزور ہونا شروع ہوئے اسی دوران یہ کلپرٹس جانتے تھے اب ہماری موت قریب ہے تو وہ آہستہ آہستہ پڑوسی ممالک ایران، افغانستان، انڈیا اور کچھ تو یورپی ممالک بھاگنا شروع ہوئے اور ابھی تک کافی تعداد میں ادھر آباد ہیں جن کو ماما قدیر یہاں مسسنگ پرسنز کا نام دے کر روزی روٹی کما رہے ہیں .
فوجی کاروائیوں کے علاوہ بلوچ سماج میں بھی ان کے خلاف تشویش ناک حد تک نفرت دیکھنے میں آئی ہے، چونکہ بلوچ اب شعوری دنیا میں قدم رکھ چکا ہے اب اس کو احساس ہوگیا ہیکہ بدامنی سے نجات کا واحد اعلاج ان نام نہاد کرائے کے تنظیموں سے سوشل بائیکاٹ ہے .
روس کے مشہور مفکر پیٹکن کہتے ہیں کہ:

“اگر تمھارے دل میں بنی نوع انسان کا درد ہے اور تم پیغام زندگی کو سن سکتے ہو تو مظالم کے خلاف اٹھ کھڑے ہو جن کی وجہ سے مزدور طبقہ فاقہ کشی پر مجبور ہے، تم ہرگز خاموش نہیں رہ سکتے”

اس میں کوئی شک نہیں کہ حق و صداقت کی حمایت ہر انسان کا فرض ہے، اس لئے بلوچ نے خوف کی زنجیریں توڑ کر ان تمام چوروں کے خلاف جہاد کا پرچم بلند کیا وہ بدامنی، بے جا مظالم ,برادرکشی, خود پرستی, ظلم پروری اور تنگ نظری کے خلاف اٹھ کھڑے ہوگئے .
بلوچ اقوام نے تحفظ حیات، تحفظ ننگ و ناموس اور تحفظ تہذیب کیلئے اپنی نگائیں اور توجہ ان کی طرف مرکوز رکھی کیونکہ وہ اب سمجھ چکے تھے کہ بلوچ اقوام کی زندگی اور بلوچ کلچر کو اگر نقصان کا خطرہ ہے تو صرف انہی گروہوں سے ہے، بلوچ اگر فاقہ کشی پر مجبور ہے تو انہی پیڈ کلرز گروپس سے جن کی عیاشیاں بلوچوں کے خون سے منسلک ہو چلی ہیں۔ بلوچ بخوبی جان چکے ھیں کہ یہاں کوئی بلوچ گر مرتا ہے تو یورپ میں انکا چولہا جلتا ہے.
ایک عام بلوچ اس نام نہاد بین الاقوامی گیم سے قبل انفرادی طور پر زیادہ آزاد تھا، خوش تھا، برسر روزگار تھا مگر جعلی آزادی کا ڈھونگ رچا کر ان لوگوں نے بلوچوں کو علاقہ بدر کروایا کیونکہ حالات میں بگاڑ پیدا کرنا ہی ان کے نمبر گیننگ کا وسیلہ تھا .!!!
اب ہمارا یہ الزام واجب اور جائز ہے کہ بلوچ کو تاریک راہوں میں دھکیلنے والے یہ نام نہاد قوم پرست اور نام نہاد آزادی کے پرچار کرنے والے ہیں جنہوں نے ترقی اور تعیلم کے پہیوں کو چلنے نہیں دیا مگر اب دور تغیر کا آغاز ہوگیا ہے، اب محبت اور نفرت کے درمیان فاصلہ کم کرنے کا طریقہ ترقی ہے اب ترقی بمقابلہ انتہا پسندی کی لڑائی ہے جو ان کو مزید پستی کی جانب دھکیل رہی ہے .اب ترقی خود بلوچوں کے دوراہے پر آکر پوچھ رہی ہیکہ دونوں میں سے کس کے موئید ہو، نام نہاد ہندوؤں کی مسلط کردہ جنگ یا سرسبز و شاداب بلوچستان جہاں بھائی چارگی، یگانگی, امن و سلامتی اتحاد و سکون اور خوشحالی کا فروغ ہے تم دونوں میں سے کس کے حامی ہو؟ یقینا سو فیصد بلوچ امن, بھائی چارگی اور عزت سے رہنا چاہتے ہیں کیونکہ ان سے خوف کی وجہ سے بلوچ سماج ارتقائی منازل سے کوسوں دور رہا بلوچ شعور و آگہی سے حد فاصل تھا بلوچ اب مزید ترقی سے فاصلہ رکھنے کی غلطی نہیں کرے گا اب مزید تنوع کی گنجائش نہیں .
بلوچ اب باشعور ہیں وہ نظریہ زندگی کو درست سمجھتے ہیں بلوچ ریاست کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر ترقی و خوشحالی کےلئے اکٹھے جہدوجہد کررہے ہیں مگر دوسری جانب حال ہی میں ڈاکٹر اللہ نذر بڑے دنوں بعد نمودار ہوکر اتحاد اور یکجہتی کی دعوت دیتا۔ظر آیا ہے، سوال یہ ہے کہ وہ مشترکہ مفاد کیلئے پہلے کیوں کبھی یکجا نہیں ہوئے؟ پہلے کیوں ہر کسی نے انفرادی مقاصد کیلئے الگ الگ گروہ بنائے؟ یقینا جواب بہت سادہ اور آسان ہے بات دراصل پیسوں کی تھی اور پیسوں کی ہے ,آزادی کے نام پر چندے اور منشیات کے پیسے ہی تھے جنہوں نے ان کو متحد ہونے نہیں دیا بیرون ممالک میں بیٹھنے والے ان نام نہاد تنظیموں کے سربراہان آپس میں پیسوں پر ہی لڑتے آرہے ہیں بلوچ جہد آزادی کے نام پر چندے ہوتے ہیں اور پھر ان ہی چندوں سے یورپ میں عیاشیاں ہوتی ہیں دوسری طرف منشیات سے پاک بلوچ علاقوں کے نام پر منشیات کی خرید و فروخت میں بھی یہ تنظیم والے آگے آگے ہیں منشیات سے لدھے درجنوں گاڑیاں روزانہ کی بنیاد پر ان کے ہاتھ چڑھتے تھے اور یہ لوگ اسی منشیات کو کوڑیوں کے دام بلوچ علاقوں میں فروخت کرتے آرہے ہیں آسان منشیات کی دستیابی پر ان علاقوں میں نشہ عام ہوتا گیا مگر ان کے نام نہاد نقاد ریاست کو اس کا زمہ دار قرار دیتے ہیں .!!
منشیات کے بندر بانٹ اور چندے کے پیسوں کی تقسیم پر ان کمانڈروں کا ہمیشہ سے جھگڑا رہا ہے کئی کمانڈر اور گروہوں کے سربراہان موت کی وادی میں بھی پھینکے گئے ہیں اسی وجہ سے وہ کئی پارٹیوں اور گروہوں میں بٹ چکے ہیں
اب بلوچ اللہ نذر اور دوسرے نام نہاد کرائے کے قاتلوں کی چالوں اور خفیہ مقاصد سے پوری طرح آشنا ہوچکا ہے اسی وجہ سے اللہ نذر اور ساتھیوں کا گراف بلوچ معاشرے میں زیرو پر آ چکا ہے غلط کردار اور بے لگام لٹیرہ پن ہونے کی وجہ سے وہ اپنی ساکھ کھو بیٹھے ہیں وہ اپنی گرتی وہ اس ساکھ کو بچانے اور دوبارہ بلوچ قوم کے جذبات کو کیش کرنے کیلئے معصوم بن کر اتحاد کی ناکام کوشش کررہے ہیں اب یہ ڈرامہ فلاپ ہوچکا ہے آپ لوگوں کے بوسیدہ کرداروں نے بلوچ قوم کی نفسیاتی شہ رگ کو جھنجھوڑا ہے اب بلوچ قوم کے ذہنوں پر وہ اس ڈرامائی انداز سے دھول نہیں ڈال سکتے!!
اب وہ وقت نہیں کہ جو انگلی آپ پر اٹھتی تو آپ اس کو خاموشی سے کاٹتے تھے اب پوری قوم بشمول عورتیں آپ لوگوں کے خلاف سڑکوں پہ سراپا احتجاج ہیں آپ کے تنظیم نے ہزاروں بے گناہوں کا قتل عام کیا ابھی آپس میں اتفاق و اتحاد کا مطلب یہ ہوا کہ آئیں مشترکہ مل کر بلوچ قوم کا قتل عام کریں؟ جس طرح ماضی میں یہ آپ لوگ کرتے آرہے ہو۔۔۔
ماضی قریب میں عورتوں کو بطور ذرائع ابلاغ استمال کیا گیا کیونکہ ان لوگوں کو پتہ تھا کہ بلوچ معاشروں میں عورتوں کو نفسیاتی برتری حاصل ہے اس لئے مردہ تحریک میں روح ڈالنے کےلئے عورتوں کو بھرپور طریقے سے سامنے لایا گیا جو تاہنوز جاری ہے مگر اب بلوچ فرسودہ زہنیت کا حامی نہیں رہے گا یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آپ لوگوں نے ضمیر فروشی اور نفس پروری کے ریکارڈ قائم کئے ہیں، اب مزید رنگین بیانی محض وقت کا زیاں تصور کیا جائے گا.
اللہ نذر صاحب ذرا بلوچ قوم کو بتائیں کہ اس اتحاد میں قتل کرنے کے کیا قالب اور کیا روپ ہونگے؟ وہی روپ تو نہیں ہوگا نا جس نے ہزاروں نوجوانوں کی زندگیاں نگل لی؟ یا پھر اس سے بدتر ! ابھی آپ کس اتحاد کا صور پھونک رہے ہو؟ آپ نے بلوچ کی ارتقائی زندگی کو تہہ و بالا کرکے بلوچ قوم کو ترقی اور شعوری دنیا سے الگ رکھا, خاندانوں کے شیرازے بکھیرے، دیہاتوں اور گاؤں کے لوگوں کی خود اطمینانی ختم کردی۔ بلوچ قوم کو برباد اور نیست و نابود کرنے میں آپ کے گروپ نے مرکزی کردار ادا کیا بی ایل ایف نے ہزاروں معصوم لوگوں کو شہید کیا، بلوچ قوم کے علمی، ادبی اور سیاسی شخصیات کو ٹارگٹ کرکے بلوچ معاشرے کو بانجھ بنا دیا گیا۔ اب پانی سر سے گزر چکا ہے بلوچ عوام باشعور ہیں وہ آپکے اس پیغام کو مسترد کرچکے ہیں کہ قتل عام کرو انارکی پھیلاو اور جنگ زدہ معاشرے تشکیل دے دو .
بلوچ آپ لوگوں سے ہم رقابی اور بھروسے کے نتائج دیکھ چکا ہے اب آپ لوگ زوالی اور بربادی کے گہرے خندق میں گر پڑے ہیں اب اس سے نکلنا مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے .
اللہ نذر صاحب بلوچ اپنے بھائی اور بہن کو انجنیئر , ڈاکٹر اور پائلٹ دیکھنا چاہتے ہیں آپ کی طرح قاتل اور مزدور کش نہیں، یہ بات اب روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بلوچ نسل کش اتحاد کے بیانیے کو شکست ہوچکی ہے .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں