بلوچستان میں خواتین کی آواز کو کالعدم تنظیمیں کس طرح کیش کررہی ہیں؟

پچھلے کچھ دنوں سے کچھ بلوچ خواتین کی ویڈیوز اور تصاویر کی بہتات نے سوشل میڈیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے بالخصوص کریمہ بلوچ کی میت کو لیکر ریاست پاکستان اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر خوب ہرزہ سرائی کی گئی جبکہ کریمہ بلوچ کی موت کو کینیڈین پولیس نے نان کریمینل ایکٹ قرار دیا تھا۔ یہی لوگ سوشل میڈیا پر کالعدم جماعتوں کی ایما پر سیکیورٹی اداروں کو نشانہ بناتے ہیں جبکہ پاکستان کی ہائی کمیشن نے کریمہ بلوچ کی موت کی مذمت کرتے ہوئے کینیڈین سرکار سے واقعہ کی تفتیش کی ڈیمانڈ کی تھی۔۔کالعدم جماعتوں کی پراپیگنڈہ مہم سے سوشل میڈیا پر ایسے مواد شیٗر کئے جاتے ہیں جو پاکستانی عوام کے دلوں میں نفرتیں پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں اور دل کو رنج دینے والی ویڈیوز تیار کئے جاتے ہیں۔جھوٹ پر مبنی ایسی ویڈیوز کو شیئر کرکے عوام کی حمایت حاصل کی جاتی ہے لیکن حقیقت میں یہ دشمن کی چھال ہوتی ہے تاکہ وہ ریاست پاکستان کو غیر مستحکم کرسکیں یہ کالعدم جماعتوں کی طرف سے ہماری فوج کو بدنام کرنے کے لئے ترتیب دیا ہوا ایک پروپیگنڈہ ہے۔ ان جعلی مظاہرین کے بارے میں بہت سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں اور ان کے نقطہ نظر کو تبدیل کرتے ہیں لہذا یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ خواتین کون ہیں اورکالعدم جماعتوں کے ساتھ ان کا بالواسطہ یا بلاواسطہ کیا رابطہ ہے؟ کالعدم جماعتیں نہ صرف ان خواتین کو اپنے پروپیگنڈہ مہم کا حصہ بنارہی ہیں بلکہ دشمن قوتوں کے ساتھ ملکر بلوچستان کے امن کو سبوتاژ کررہے ہیں جس کی ایک واضع مثال ڈس انفارمیشن لیب میں کریمہ بلوچ سمیت کچھ عناصر کے نام شامل تھے جو براہ راست انڈین ایجنسی کی فرمانبرداری کررہے تھے۔ کالعدم جماعتوں کی مدد سے رکھے ہوئے خواتین کے چہروں سے بے گناہی کے جعلی اگواڑے کو ہٹانے سے پہلے ماما قدیر کے بارے میں مختصر طور پر بات کرنا ضروری ہے۔ ماما قدیر شاید ایک بے ضرر انسانی حقوق کارکن کے طور پر نظر آئیں جو وائس آف بلوچستان کے گمشدہ فرد کی چیئرپرسن بھی ہیں لیکن حقیقت میں وہ صرف انسانی حقوق کا نقاب پوش لباس پہنے ہوئے ہیں تاکہ ریاست میں انتشار پیدا ہو۔ماما قدیر کی جعلی شخصیت اتنی سحر انگیز ہے کہ حامد میر جیسے صحافیوں نے بھی انھیں میڈیا میں کافی حد تک کوریج دی ہے۔ اس کے اصل ارادے اس وقت منظرعام پر آئے جب ماما قدیر پر مشتمل ایک خاص ویڈیو پیغام لیک ہوا جس میں اسے ہندوستانی حکومت سے کھل کر اس سے اپنے ہم وطنوں کو آتشیں اسلحہ اور گولہ بارود مہیا کرنے کی التجا کرتے دیکھا جاسکتا ہے جس طرح کریمہ بلوچ نے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کو رکشا بندھن کے موقع پر اپنا بھائی مان کر اسے راکی باندھنے کی التجا کی تھی۔ ماما قدیر کو کھلے عام ہندوستانی وزیر اعظم مودی کی حمایت کرتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے اور ایک طرح سے وہ پاکستان کے سب سے بڑے حریف بھارت کی بیعت کرتے ہیں۔اب ان ہی بلوچ خواتین کی طرف واپس آتے ہیں جو سوشل میڈیا پر ریاست کے خلاف منفی پراپیگنڈہ حاصل کرنے کے لئے شکار کارڈ کھیل رہی ہیں۔ یہ خواتین جو سوشل میڈیا اور مختلف بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر اپنے پیاروں کو اغوا کرنے کا الزام ریاست پاکستان پر لگاتی نظر آتی ہیں، حقیقت میں ان لوگوں کے نام اور شناخت کا استعمال کررہی ہیں جو واضح طور پر خود ہی کالعدم جماعتوں جیسے دہشت گرد دھڑوں کا حصہ ہیں۔پہلے ان خواتین سے فرزانہ مجید آتی ہیں۔ وہ پہلی خواتین تھیں جسے ماما قدیر نے پاکستان میں لاپتہ افراد کے معاملے کی داستان کے خلاف خواتین کے لئے آواز کے طور پر پہچانا تھا۔ یہ یقینی طور پر ماما قدیر کے ذریعہ ایک چالاک اقدام تھا جس نے عورتوں کی طاقت اور آواز کو اس کے اوپری مقاصد کی تکمیل کے لئے استعمال کیا۔ فرزانہ کا بھائی ذاکر مجید دہشت گرد تنظیم بی ایس او آزاد کا وائس چیئرپرسن رہا ہے۔یہ وہ پہلو ہے جو ہمارے نقطہ نظر کو مکمل طور پر ایک وہم میں ڈال دیتا ہے۔ اگر کوئی یہ استدلال کرتا ہے کہ ذاکر مجید محض ایک عام طالب علم تھا تو وہ یقیناغلط ہوں گے کیونکہ اس نے مختلف ویڈیو کلپس میں دہشت گردی کی متعدد سرگرمیوں کا دعوی کیا ہے اور اسے افغان اور ایرانی عسکریت پسندوں کے ساتھ تصویروں میں دیکھا گیا ہے۔اس سے یہ حقیقت مزید پختہ ہوجاتی ہے کہ یہ ساری مہم ریاست کے اندر امن کو خراب کرنے کی ایک وسیع کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔ فرزانہ مجید نے اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھایا، کامیابی کے ساتھ امریکہ چلی گئیں اور وہاں سیاسی پناہ حاصل کرلی جہاں اسے بیرونی ایجنسیوں نے ریاست کے خلاف نفرت پھیلانے کے لئے مالی اعانت فراہم کی۔کالعدم تنظیم کے کمانڈر کی بیٹی ماہ رنگ بلوچ وہ کس کے لئے لڑ رہی ہیں؟ ماہ رنگ بلوچ کا شمار بھی ایسے خواتین میں ہوتا ہے جو ماما قدیر کے ساتھ ملکر بلوچستان میں افراتفری کا ماحول پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ماہ رنگ بلوچ کے والد عبد الغفار محض ایک انسانی حقوق کے کارکن تھے لیکن حقیقت میں اس کو اپنی منظم دہشت گردی کی سرگرمیوں کو انجام دینے کے لئے استعمال کررہے تھے۔ عبد الغفار نہ صرف کالعدم بی ایس او آزاد کا سرگرم رکن تھا بلکہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ دہشت گرد دھڑے بی ایل اے کا کمانڈر بھی تھا تاہم اس سے زیادہ پریشان کن خبر یہ ہے کہ عبد الغفار پہلے ہی ایک کالعدم گروہ کے ہنگامے میں ہلاک ہوچکے ہیں۔ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے خلاف نفرت کا اظہار کرنے والی ماہ رنگ بلوچ دراصل بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز میں ریاست کے اخراجات پر تعلیم حاصل کررہی ہے۔اگر ہم زکر کریں کالعدم بی ایس او کی سابقہ چیئرپرسن کریمہ بلوچ کی تو وہ بھی بی ایس او کی بہت سی خواتین ممبروں میں سے ایک تھیں جنہوں نے ایک خاتون ہونے کا فائدہ اٹھایا اور اس طرح ان کے خلاف زیادہ کاروائی نہیں کی گئی۔وہ عوامی سطح پر پاکستان کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کیا کرتی تھیں۔وہ وہی خاتون تھیں جنھیں ماما قدیر نے جنیوا لے جانے کی تربیت دی تھی، جہاں انہوں نے ایک بین الاقوامی فورم پر پاکستان کے خلاف نفرت کا اظہار کیا تھا۔ماما قدیر کے ذریعہ استعمال ہونے والی یہ تمام خواتین واقعتا ایک وسیع و عریض اسکیم میں قائم کی گئیں تاکہ بین الاقوامی ہمدردی حاصل کرکے پاکستانی ریاست کو ختم کیا جاسکے۔عورتوں کو پراپیگنڈہ مہم کے لئے استعمال کرنا یقینا کالعدم جماعتوں کا ایک چالاک طریقہ ہے جس سے معاشرے کو جھوٹ کے بلبلے میں ڈالتے ہوئے اس کے اوپری مقاصد کو انجام دیا جائے۔ کالعدم جماعتیں اب ایسی کمزور تنظیمیں بن چکی ہیں کہ وہ اب خواتین کی طاقت کے پیچھے چھپ رہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں