آئی جی ایف سی ساوتھ بلوچستان حیات بلوچ کے گھر فاتحہ خوانی کے لئے گئے اور ہر ممکن معاونت کی یقین دہانی بھی کرائی. اختر مینگل /منظور پشین/ علی وزیر /محسن داوڑ اور BLA جیسی All Terrorist Organization India کب جائیں گے حیات بلوچ کے گھر فاتحہ خوانی کے لئے اور غم زدہ خاندان کی مالی معاونت کے لئے..

پاکستانی بلوچ ۔۔۔!
اسی ملک میں بھائی کے ہاتھوں بھائی کا قتل ہوتے ہوئے بھی دیکھا ہے جبکہ FC اہلکار خود مان رہے ہیں کہ ہمارے اہلکار کے ہاتھوں حیات بلوچ کی شہادت ہوئی ہے غلط فہمی میں گولی چلائی اور اسی وقت FC والوں نے ہی قاتل سے بندوق چھینی. اور FC نے ہی قاتل کو پولیس کے حوالے کر دیا

اور IGFC ساوتھ بلوچستان تو حیات بلوچ کے گھر فاتحہ خوانی کے لئے آگئے اور ہر ممکن معاونت کی یقین دہانی بھی کرائی. اختر مینگل /منظور پشین/ علی وزیر /محسن داوڑ اور BLA All Terrorist Organization India کب آئیں گے حیات بلوچ کے گھر فاتحہ خوانی کے لئے اور غم زدہ خاندان کی مالی معاونت کے لئے، یا خالی بس فیس بک اور ٹیوٹر اور عوام میں انتشار اور احتجاج، پروپیگنڈے گروپ اور نام نہاد قوم پرست پیٹ پرست جماعتیں اور اپنی سیاسی سرگرمیوں کو دوسروں کی موت سے زندہ رکھنا ہے. روز FC اہلکار بھی شہید ہوتے ہیں عوام کی جان و مال کا تحفظ کیا انکے والدین بیوی بچے اور گھر والے نہیں ہوتے ہیں کسی بھی PTM والے یا BLA والے نے آواز اٹھائی
کہ FC میں ہمارے پشتون اور بلوچ شہید ہو رہے ہیں کبھی نہیں انکا مقصد پشتون بلوچ سے ہمدردی کا نہیں صرف پاکستان اور افواج پاکستان کو بدنام کرنا ہے اور اپنی عیش و عشرت اور مراعات کو ترجیح دینی ہے اس کے لئے کوئی نہ کوئی پروپیگنڈا وار استعمال کرتے ہیں اور اسی چیز کی وہ فنڈنگ حرام مال ان کے منہ لگا ہے ۔

ایف سی بلوچستان کے اعلیٰ حکام نے حیات بلوچ کے گھر جا کر اہلِ خانہ سے تعزیت کی اور دُکھی خاندان کو ہر ممکن تعاون کی بھی یقین دہانی کروائی.
مقامِ افسوس ہے کہ سوشل میڈیا پہ اس حوالے سے PTM BLA And All Terrorist Organization اور دیگر ریاست مخالف گروہوں کی جانب سے پروپگنڈہ تو بہت ہو رہا ہے مگر ان میں سے کسی نے بھی اپنے ڈرامے اور پروپگنڈہ سے نکل کر متاثرہ خاندان سے اظہارِ ہمدردی تک نہ کیا اس موقع پر بھی ایف سی نے متاثرہ خاندان کو گلے سے لگایا…
18 اپریل 2019 کو گوادر سے کراچی جانے والی بس سے 14 فوجی اہلکاروں کو بس سے اتار کر شناختی کارڈ دیکھ کر قتل کردیا گیا انکی بھی مائین بہنیں بیٹیاں تھی وہ بھی کسی کے بیٹے تھے

دو ماہ قبل بلوچستان میں ہی ایک میجر سمیت 6 فوجی اہلکاروں کو بی ایل اے کے دہشت گردوں نے کانوائے پر حملہ کرکے شہید کیا انکے بھی اہل خانہ تھے وہ بھی کسی کے بیٹے تھے

اسی طرح گزشتہ 4 ماہ میں صرف بلوچستان میں 5 سے زائد بار بی ایل اے کے دہشت گردوں نے فوجی قافلوں کو بم دھماکو‌ں اور راکٹون سے نشانہ بنایا جس میں بیس کے قریب جوان شہید ہوئے اور باقاعدہ بی ایل اے کی طرف سے ان کی فوٹیج جاری کی جاتی رہی

کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملہ اور کرنے والے مسنگ پرسنز بھی اپ سب کے سامنے ہیں.

ایک علاقہ جہاں پر کئی سال سے بیرونی فنڈنگ پر پلنے والے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن ہو رہا ہو اور کافی حد تک انکا صفایا بھی ہو چکا ہو جس صوبے میں پولیس کی ایسی تربیت ہی نا ہو کہ وہ صوبے کا سیکورٹی کا نظام سنبھال سکے اور مجبوراً آپکو وہاں فوج تعینات کرنی پڑے جس کی عوام کے ساتھ وہ تربیت نہیں ہوتی جو پولیس کی ہوتی ہے.

13 اگست کو آبسر روڈ پر بلوچی بازار کے مقام پر ایف سی کی دو گاڑیوں پر دھماکہ ہوا تھا، جس پر ایف سی کے اہلکار شاھد اللہ نے قریبی باغات میں موجود محمد حیات کو مجرم سمجھ کر اپنی سرکاری رائفل سے گولیوں کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں محمد حیات جاں بحق ہو گئے ہم سب اس قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور مجرم کی سزا کا مطالبہ بھی کرتے ییں اسکی مغفرت کی دعا کے ساتھ اللہ لواحقین کو صبر دے یہ ظلم اور زیادتی ہے ایک بیگناہ کے ساتھ۔

ایف سی نے اپنی ابتدائی تفتیش کے بعد اہلکار کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے پولیس کے حوالے کردیا ہے اور پولیس نے 14 روزہ ریمانڈ حاصل کرکے ابتدائی تفتیش شروع کردی ہے بے شک یہ ایک غیر ذمہ دارانہ اور دردناک واقعہ ہے۔

بلوچستان کے عوام پہلے ہی مسائل سے دوچار ہیں اور اس پر متضاد اپنے ہی وڈیروں کے ہاتھوں پسے ہوئے ہیں ۔لیکن اس واقع میں سب سے زیادہ فائدہ قوم پرستوں، مجرموں اور دہشت گردوں کو ہوا جنہیں اس واقع کی آڑ میں اداروں پر بھونکنے کا موقع ہاتھ لگ گیا ہے ..

ایک شخص کے انفرادی فعل کو بنیاد بنا کر اگر اپ فورسز کی امن کے لئے دی گئی ہزاروں جانوں کو بھی نظر انداز کرکے پورے ادارے پر گالی بہتان اور الزام تراشی شروع کردیں تو اس سے بڑا بیغرت اور منافق کوئی نہیں جو سپاہیوں کو شناختی کارڈ دیکھ کر قتل کرنے پر تو خاموش رہے لیکن کسی ایک سپاہی کی غلطی پر گالی پورے ادارے کو دے ….

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں