یومِ آزادی 15اگست کیوں نہیں؟

پاکستان کا اصلی یومِ آزادی 14اگست ہے یا 15اگست؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر بہت بحث ہو چکی اور بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ تحقیق یہی ثابت کرتی ہے کہ برطانوی حکومت کی دستاویزات کے مطابق ہندوستان کی طرح پاکستان بھی 15اگست کو معرض وجود میں آیا لیکن پھر جولائی 1948میں حکومتِ پاکستان نے یہ فیصلہ کیا کہ یومِ آزادی کی پہلی سالگرہ 15اگست کے بجائے 14اگست 1948کو منائی جائے گی۔

یہ بھی یاد رہے کہ 9جولائی 1948کو حکومتِ پاکستان نے جو ڈاک ٹکٹ جاری کئے ان پر بھی پاکستان زندہ باد کے ساتھ 15اگست 1947کی تاریخ درج تھی لہٰذا یہ سوال بہت اہم ہے کہ حکومتِ پاکستان نے اپنا یومِ آزادی 15اگست کے بجائے 14اگست کو منانے کا فیصلہ کیوں کیا؟

یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب تلاش کرنے کیلئے تحقیق کی جائے تو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی شخصیت کے کچھ ایسے پہلو سامنے آتے ہیں جنہیں نظرانداز کیا گیا ہے۔

برطانوی مصنف ہیکٹر بولیتھ کی قائداعظم ؒ کے بارے میں سوانح عمری 1954میں شائع ہوئی تو اس میں بانی پاکستان کی زندگی اور کردار کے اہم گوشوں کو چھپا دیا گیا جس پر محترمہ فاطمہ جناح خوش نہیں تھیں۔

بعدازاں اسٹینلے والپرٹ سمیت کئی محققین نے قائداعظمؒ پر کتابیں لکھیں لیکن اس پہلو پر توجہ نہیں دی کہ قائداعظم ؒ نے 15اگست کے بجائے 14اگست کو یوم آزادی منانے کے فیصلے کی منظوری کیوں دی؟ یہاں میں نے منظوری کا لفظ اس لئے استعمال کیا ہے کہ بعض سرکاری دستاویزات کے مطابق پاکستان کا یوم آزادی 14اگست کو منانے کی تجویز پر پہلی دفعہ 29جون 1948کو وزیراعظم لیاقت علی خان کی صدارت میں کابینہ کے اجلاس میں غور ہوا اور یہ تجویز قائداعظم کی منظوری سے مشروط کی گئی اور پھر ایک اور دستاویز بتاتی ہے کہ قائداعظمؒ نے 14اگست کو یومِ آزادی منانے کی منظوری دیدی تھی۔

قائداعظمؒ کی زندگی کا بغور جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ بظاہر وہ ایک سادہ سے کلین شیو مسلمان تھے لیکن اندر سے وہ برطانیہ کے سامراجی کردار کے شدید مخالف تھے۔ تحریک پاکستان کے ایک کارکن سینئر صحافی شریف فاروق نے قائداعظمؒ کو قریب سے دیکھا۔

وہ 23مارچ 1940کو لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں بھی موجود تھے۔ ان کی کتاب’’جناحؒ برصغیر کا مردِ حریت‘‘ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس کتاب میں قائداعظمؒ کی برطانیہ کے سامراجی کردار سے نفرت اور مزاحمت کو واقعات کی مدد سے اجاگر کیا گیا۔

وہ لکھتے ہیں کہ قائداعظمؒ کی کانگریس سے دوری کی وجہ گاندھی کا دوغلا رویہ بنا اور جب قائداعظمؒ نے کانگریس کے نام نہاد سیکولر ازم کو خیرباد کہہ دیا تو پھر برطانوی سرکار نے انہیں مختلف عہدے دیکر خریدنے کی کوشش کی۔

سب سے پہلے انہیں بمبئی ہائیکورٹ میں جج بنانے کی پیشکش ہوئی جو انہوں نے ٹھکرا دی۔ پھر انہیں ایڈووکیٹ جنرل بنانے کی پیشکش ہوئی یہ بھی مسترد ہو گئی۔ وائسرائے لارڈ ریڈنگ نے قائداعظمؒ کو وزیرقانون بنانے کی پیشکش کی جو ٹھکرا دی گئی۔

برطانوی وزیراعظم ریمزے میکڈونلڈ نے قائداعظمؒ کو کسی ریاست کا گورنر بننے کی پیشکش کی تو انہوں نے اسے رشوت قرار دیکر مسترد کر دیا۔ 1940میں کانگریس کے ایک لیڈر راج گوپال اچاری نے پہلی دفعہ قائداعظمؒ کو متحدہ ہندوستان کا وزیراعظم بننے کی تجویز دی لیکن قائداعظمؒ نے پاکستان کے مطالبے سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا۔

1947میں یہ پیشکش مہاتما گاندھی نے کی لیکن قائداعظمؒ نے لارڈ مائونٹ بیٹن کا ماتحت وزیراعظم بننے سے انکار کر دیا۔ وہ لوگ جو یہ الزام لگاتے ہیں کہ قائداعظمؒ نے انگریزوں کے کہنے پر پاکستان کا مطالبہ کیا انہیں میں چیلنج کرتا ہوں کہ برطانوی سرکار کے ساتھ خفیہ سازباز کانگریس کی قیادت نے کر رکھی تھی قائداعظمؒ نے نہیں۔

وہ قائداعظم ؒجنہوں نے 12اور 14ستمبر 1929کو سنٹرل لیجسلیٹو اسمبلی میں بھگت سنگھ کے حق میں تقریریں کیں وہ برطانوی سامراج کے ساتھ سازباز کیسے کر سکتے تھے؟

برطانوی سامراج اور کانگریس کے خفیہ گٹھ جوڑ کا ایک بڑا ثبوت یہ ہے کہ کانگریس نے سب سے پہلے لارڈ مائونٹ بیٹن کو 15اگست 1947کے دن ہندوستان کا گورنر جنرل قبول کر لیا اور پھر 15اگست کو یومِ آزادی کے طور پر قبول کر لیا۔15اگست دراصل برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کی دوسری جنگ عظیم میں جاپان کے خلاف فتح کا دن تھا۔امریکا نے 6اگست 1945کو جاپان کے شہر ہیروشیما اور 9اگست1945ء کو ناگا ساکی پر ایٹم بم گرائے جس کے بعد 15اگست 1945کو جاپان کے شہنشاہ ہیرو ہیتو نے سرنڈر کا اعلان کر دیا۔

اس وقت مائونٹ بیٹن اتحادی افواج کا کمانڈر برائے جنوب مشرقی ایشیا تھا اور سنگاپور میں موجود تھا۔ اسی دن اتحادی افواج نے کوریا سے واپسی کا اعلان کیا لہٰذا جنوبی کوریا اور شمالی کوریا دونوں کا یومِ آزادی 15اگست ہے۔

کانگریس کی قیادت 1929سے 1947تک ہر سال 26جنوری کو پورناسوراج یعنی مکمل آزادی کے دن طور پر مناتی رہی لیکن جب برطانوی پارلیمنٹ نے برٹش انڈی پینڈینس بل کے ذریعہ 15اگست کو ہندوستان اور پاکستان کا یوم آزادی قرار دیا تو کانگریس خاموش رہی۔ قائداعظمؒ نے مائونٹ بیٹن کو پاکستان کے گورنر جنرل کے طور پر قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پاکستان میں ٹرانسفر آف پاور کی تقریب 14اگست 1947کو ہوئی۔

اس دن قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے مائونٹ بیٹن نے شہنشاہ اکبر کی رواداری کا ذکر کیا تو قائداعظمؒنے جوابی تقریر میں کہا کہ ہم نے رواداری اکبر سے نہیں نبی کریم حضرت محمدﷺ سے سیکھی ہے۔ 14اور 15کی درمیانی شب قیام پاکستان کا اعلان ہوا۔ اکثر محققین کے خیال میں 15اگست کو 27رمضان المبارک تھی۔اس دن مائونٹ بیٹن ہندوستان کا گورنر جنرل بنا جہاں پنڈت مائونٹ بیٹن زندہ باد کے نعروں سے ان کا استقبال ہوا۔

اگلے چند ماہ کے دوران پنڈت مائونٹ بیٹن اور کانگریسی قیادت کا گٹھ جوڑ کھل کر سامنے آگیا۔ جونا گڑھ نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا تو پنڈت مائونٹ بیٹن نے ہندوستان کو جونا گڑھ پر حملے کی اجازت دیدی اور جب مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے ہندوستان سے الحاق کا اعلان کیا تو پنڈت مائونٹ بیٹن نے اسے تسلیم کر لیا۔

قائداعظم کے پرائیویٹ سیکرٹری کے ایچ خورشید مہاراجہ سے بات چیت کیلئے سرینگر گئے تھے انہیں وہاں گرفتار کرلیا گیا اور بعدازاں گلگت بلتستان کے گورنر بریگیڈیئر گھنسارا سنگھ کے تبادلے میں رہا ہوئے۔ قائداعظم جانتے تھے کہ 1931سے 1947تک 14اگست کو کشمیر ڈے کے طور پر منایا جاتا تھا۔

پہلا کشمیر ڈے 14اگست 1931کو علامہ اقبالؒنے لاہور میں منایا لہٰذا قائداعظم ؒ نے 15اگست کے بجائے 14اگست کو یومِ آزادی منانے کی منظوری اس لئے دی تاکہ پاکستان کی تاریخ کو برطانیہ کی استعماری فتوحات کی تاریخ سے علیحدہ کرکے تحریک آزادی کشمیر کی تاریخ سے جوڑ دیا جائے۔

15اگست 1947ءکو پنڈت مائونٹ بیٹن نے ہندوستان کے گورنر جنرل کا حلف اٹھایا اور قائداعظمؒ نے پاکستان کے گورنر جنرل کا اٹھاتے ہوئے تاج برطانیہ سے وفاداری کے بجائے یہ الفاظ کہے ’’میں پاکستان کے بننے والے آئین کا وفاداررہوں گا‘‘ لہٰذا قائداعظم ؒکے پاکستان میں سامراجی طاقتوں کے مفادات کا تحفظ کرنے والوں کو دوست نہیں دشمن سمجھا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں