11 اگست کرائے کے قوم پرستوں کی کمائی کا دن۔۔۔۔!!

1948 میں پاکستان سے الحاق کے حق میں خان آف قلات نے ووٹ دے دیا تھا۔ خانِ قلات نے ریفرنڈم کے بعد لسبیلہ، مکران اور خاران کو پاکستان کے حق میں الحاق کروایا ۔اب اس تاریخی حقیقت کو ہندوستانی پیڈ مورخین غلط رنگ دے کر جبری قرار دے رہے ہیں جو کہ اس وقت کے خان قلات اور قائد اعظم محمد علی جناح کے درمیان باہمی رضامندی اور ریفرنڈم سے انجام پایا تھا۔
مجھے حیرانگی اس بات پر ہے کہ شوشہ بلوچستان کی آزادی اور قبضہ گیریت کا لگایا جاتا ہے مگر بلوچستان میں اس سوچ اور نقطے کی وجود ہی نہیں ہے تاریخ گواہ ہیکہ بلوچستان میں آج تک 11 اگست یا 16 اگست کی کوئی تاریخی پس منظر نہیں نہ کہ یہ دن کبھی منایا گیا جب کہ باہر بیٹھے چند مٹی بھر کرائے کے عناصر اپنی سیاست چمکانے اور ہندوستان کی خواہشات کی پیروی کےلئے چند کرائے کے دانشوروں کی پیسوں کے عوض خدمات حاصل کرکہ اسے بلوچ تاریخ سے منسوب کرنے کی جہت پہ لگے ہوئے ہیں ۔ کیونکہ ہندوستان نے آج تک پاکستان کو دل سے قبول ہی نہیں کی۔پاکستان کے معرض وجود میں آتے ہی بھارت نے پاکستان کے خلاف سازشوں کا آغاز کردیا ۔جب بھارت سے جنگ میدان میں جیتی نہیں جاتی تو وہ پھر اپنی فطرت کے مطابق سازشیں کرکے جنگ جیتنے کی کوشش کرتا ہے۔
انڈین میجر جنرل ریٹائرڈ سکھونت سنگھ نے اپنی کتاب انڈین وارز سنس انڈیپنڈنس میں لکھا ،مکتی باہنی کو گوریلا فورس انڈین راء اور آرمی نے بنایا۔ انڈیا نے ہی بنگالیوں کو نشانہ بنایا تاکہ مغربی پاکستان کے حوالے سے نفرت پھیلے۔
 بی رمن راء آفیسر اپنی کتاب میں لکھتے ہیں وزیر اعظم اندرا گاندھی پاکستان کو توڑنے کی خواہش مند تھیں ان کے ایما پر مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی بنائی گئی اور اس کے ساتھ بھارت کے آرمی افسران نے مل کر پاکستان کے خلاف جنگ لڑی۔سب سے بڑھ کر بھارت کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی کا وہ بیان کہ بنگلہ دیش کی آزادی میں بھارتی فوجیوں کا خون بہا ہے پوری دُنیا کے سامنے بھارت کا مکروہ چہرہ ایکسپوز کرنے کے لئے کافی ہے۔

ماضی کو رہنے دیں پاکستان کے خلاف اب بھی سازشیں رکی نہیں بلکہ جاری ہیں راء کی طرف سے آزاد پشتونستان، آزاد بلوچستان اور کراچی کو الگ ملک بنانے جیسے گھناؤنے کھیل ،اس کے لئے راء کے ایجنٹس شرپسندوں کو پیسہ،ٹریننگ  اور اسلحہ فراہم کرنے لگے ہوئے ہیں جب پاکستان کی آرمی اور خفیہ ایجنسی نے بلوچستان سے بھارتی نیوی کے حاضر سروس کمانڈر کل بھوشن کو گرفتار کیابھارتی جاسوس کمانڈر کل بھوشن یادیو عرف حسین مبارک پٹیل کو براستہ ایران پاکستان میں داخل ہوتے ہوئے بلوچستان کے علاقے ماشکیل  سے گرفتار کیا گیا ۔ کلبھوشن نے تسلیم کیا کہ وہ بھارتی نیوی کا آفیسر اور بدنام زمانہ ایجنسی را کا ایجنٹ ہے۔کلبھوشن 2003 سے ایران میں مقیم تھا ۔تاجر کے روپ میں وہ بلوچستان میں دہشتگردی کے نیٹ ورک کو پھیلا رہا تھا اور پاکستان میں تخریب کاری کے لئے فنڈنگ فراہم کرتا تھا۔را کی جانب سے کل بھوشن کے نیٹ ورک کے ذمے بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کرنا ، بلوچ باغیوں کو فنڈنگ، کراچی میں بدامنی،پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات، سی پیک اور گوادر بندرگاہ پر حملے کرنا شامل تھے جس کی گرفتاری سے بھارت کا مکروہ چہرہ عالمی دنیا کے سامنے پاش ہوا ۔
ان سارے ریفرنسز اور حقائق سے یہ نتیجہ سامنے آتا ہیکہ یہ 11 اگست یہ 16 اگست یہ سب بھارت کی بلوچوں کو ورغلانے کی چال ہیں جس کو وہ عرصہ دراز سے کرتے آ رہے ہیں،بلوچستان کی تقدیر کا فیصلہ باہر باگے ہوئے چند نام نہاد جعلی قوم پرست نہیں کرسکتے،ان کے خلاف تو ان کے اپنے علاقے کے لوگوں نے ریلیاں نکال کر،ان کے پتلے جلا کر یہ پیغام دیا کہ وہ بلوچستان کے حقیقی وارث ہیں وہ فیڈریشن کے حصے ہیں پارلیمنٹ کو اپنے حقوق کا دفاعی زرائع سمجھتے ہیں وہ کسی بھی صورت ہندوستانی فنڈڈ گروہ کو بلوچستان میں اپنی غلیظ نظریہ ٹھوسنے کی اجازت کسی بھی صورت نہیں دیں گے،ان کا واضع پیغام یہی تھا کہ پاکستان ہمارا مادر وطن ہے اس کی دفاع اور سلامتی کیلئے ہر گھر سے بلوچ لڑنے کو تیار ہے ۔سوئیٹزرلینڈ میں بیٹھے یہ کرائے کے قوم پرست 11 اگست کو بلوچ تاریخ سے منسوب کرکہ پاکستان کو عدم استحکام ہندوستان ایجنڈے کی آبیاری کرنا چاہتے ہیں،لیکن ان کو پتا ہونا چاہئے کہ آج تک کسی ایک بلوچ نے بلوچستان میں 11 اگست کے حق میں نہ کچھ بولا نہ اس من گھڑت دن کے حوالے کوئی نطریہ یہاں بلوچوں کے ذہن کبھی بسا۔یہ صرف انگلینڈ اور جینوا والوں کی کمائی کا دن ہے ،وہ یہ جھوٹے تاریخ کو جھوٹے اور کرائے کہ مورخین سے لکھوا کر وہاں بسوں اور ٹیکسیوں پر لگے اشتہاری مہم کے خرچے نکالتے ہیں وگرنہ اس دن کی بلوچ تاریخ میں کوئی نام نشان نہیں ۔یہ چند لوگ بات کرتے ہیں انقلاب کی بات کرتے ہیں غلامی کی ،ارے میرے بھائی کیا انقلاب کیا غلامی،آپ لوگ تو ہندوستان کے مزدور ہو ،انڈیا سے پیثے لے کر ڈومور والی فارمولے کو بڑھاوا دے کر اسے انقلاب اور آزادی کی نام دے رہے ہو،میں تو کہتا ہوں کہ کسی ہندو سے فنڈ لے کر کسی مسلمان کا گھر اجاڈنا ہی سب بڑی لانعت اور غلامی ہے خدارا یہ فدائین مدائین والے ڈرامے اب بلوچستان میں فلاپ ہوچکے ہیں اب ہر گھر سے ان نام نہاد آجوئی پسندوں کے خلاف مزاحمت ہورہا ہے ،ان کے خلاف نفرت کی انتہا یہ ہے کہ اب خواتین بھی ان کے خلاف روڑوں پہ نکل آئے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں