علم کی شمع کو بجھانے والے عناصر۔۔۔۔اا

بلوچستان کی نام نہاد انقلابی ڈرامہ نما گیم نے تعلیمی ڈھانچے پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں ۔ماضی میں سوچی سمجھی سازش کے تحت بیرون ملک ریاست مخالف عناصر نے یہاں درجنوں اساتذہ،ڈاکٹرز اور انجنیئرز قتل کئے نسلی اور قومیت کی بنیاد پر قتل و غارت کروائی. اس صورتحال کی بناء پر اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹی کے بہت سے اساتذہ جان بچانے کے لیے دوسرے صوبوں کو چلے گئے یوں ان اساتذہ کی ہجرت سے تعلیمی نظام مکمل طور پر معطل ہو گیا۔ بلوچستان کے تعلیمی نظام کو منظم کرنے نہیں دیا گیا جس سے بلوچستان والے عذاب اور کرب میں مبتلا ہوگئے تھے۔یہاں کے جامعات کے طلبا و طالبات کو سازشوں کے تحت ماما قدیر ،ذاکر مجید ،زاہد کرد،کریمہ بلوچ اور فرزانہ بلوچ نے سڑکوں پر اپنی شہریت کی قبولیت کےلئے ان کو اشتعال انگیزی پر مجبور کرایا لوگوں کو تعلیم اور تعلیمی اداروں سے بدظن کیا گیا ۔چلو وہ تو اپنے نجی مقاصد میں ان طالبات کو استعمال کرکہ بیرون ملک بھاگنے ،شادی کرنے اور عیاشی کی زندگی حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوگئے ۔اب پاکستان آرمی اور بلوچستان کے غیور عوام نے ان کو مسترد کرکے یہاں کے امن بحالی میں بھرپور کردار نبھایا ،بہ مشکل تعلیم کی ناگفتہ صورتحال کو اصلاح کرنے اور ان اداروں کے اندر کالی بھڑوں کو باہر نکال پھینکنے، بلوچ قوم کو ان عناصر کے حقیقت آشکار کرائے سادہ لوح بلوچ جو ان کے بہکاوے میں آ کر نعرے لگاتے تھے ان کو عناصر کی حقیقت بتائی جس سے بلوچ قوم میں ان کے خلاف بھرپور نفرت پیدا ہوگئی۔مگر اب پھر سے ان کا مجرمانہ عمل ایک اور شکل میں جاری و ساری ہے جس میں مہرنگ بلوچ ھوران بلوچ حسیبہ قمبرانی کو ماما قدیر کے کندھوں میں بٹا کر ماضی والے عمل کو دہرایا جارہا ہے پھر سے یورپ میں بیٹھے کٹ پتلی قوم پرست یہاں تعلیمی اداروں کو مخدوش کرنا چاہتے ہیں کوئٹہ کے طلبا و طالبات کو روڑوں پر لانے کے بعد اب وہ مکران کا رک کر چکے ہیں کیوں کہ تربت ایجوکیشن سٹی بن چکا ہے اب وہاں شعور ڈیولپ ہوئی ہے لوگوں کو صیع اور غلط کی سمجھ آ چکی ہے کہ یہ نام نہاد مظاہرے اور جلسے کن مقاصد کی تکمیل کیلئے کرائے گئے،اس لئے اب بیرون ملک دشمن عناصر نے تربت کے حالات کو خراب کرنے کیلئے وہاں دھماکے کروانے اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ شروع کروایا جس کے بعد میں یقین سے کہتا ہوں ماما قدیر اپنی ٹیم کے ساتھ تربت کے تعلیمی اداروں میں یلغار شروع کریں گے ،مکران کی تعلیمی نظام کو شفاف نظام کے تناظر میں امن و امان کی اس بگڑتی صورت حال سے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں ۔ بہر کیف تعلیمی نظام اور امن و امان کو نقصان پہنچانے کیلئے ایک دفعہ پھر یہی ماما قدیر کی ٹیم کو یہ اہداف اور ٹاسک سونپا گیا ہیکہ وہ مکران کا رک کریں وہاں مظاہرے کروائیں،وہاں طالبات کو کچھ بھی ہیلے بہانے بنا کر سڑکوں پہ لے آئیں تاکہ تعلیمی نظام کا رواں دواں یہ تیز کارواں تذبذب کا شکار رہے ۔کیونکہ وہ بلوچوں کو ذہنی غلام اور فکری طور پر کنگال بنانا چاہتے ہیں ۔1988 سے شروع ہونے والے ان نام نہاد ڈراموں کے اثرات 2020 میں بھی بلوچ سماج کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں ۔خدارا اب ان کے مذموم عزائم کو پہچان کر ان عیاش پرستوں کے چال اور ہنر سے خود کو دور رکھیں اور ان کو اپنے صفوں میں گھسنے نہ دیں ۔ ان نوجوانوں کو ماما قدیر اور کمپنی سے انتہا پسندی کے خطرے کو محسوس کرنا چاہیے ،میرے خیال میں وہ کر بھی چکے ہیں، بلوچستان میں آباد تمام باشعور افراد مشترکہ جدوجہد کر کے تعلیم دشمن سوچ کا محاسبہ کریں۔
تصویر کی دوسری رخ ،تربت دھماکے میں شہید ہونے والے جوان بیٹے کی ماں پُرسوز آنکھوں کے ساتھ ہم سے سوال کررہی ہے کہ میرے لخت جگر کی خون بلوچستان کے سوگوار ہواوں میں برمش واقعے کی طرح کیوں نہیں گونجی ؟؟ کیوں اس ماں کی آہ اور گونج نام نہاد قوم پرستوں تک نہیں پہنچ رہی ؟؟ میرے بیٹے کی شہادت پر کیوں اتنی خاموشی ہے کیا وہ گھر کا واحد کمانے والا نہیں تھا؟ انصاف کے متمنی یہ ماں ہم سے تڑپ تڑپ کر سوال کر رہی ہے جس کا جواب ہمیں دینا ہوگا ،ان سوالات کے جوابات ہم سب کے پاس ہیں مگر ہم میں اتنی جرآت نہیں کہ ہم ان کی نشاندھی کرسکیں کیونکہ اس ماں کے بیٹے کو مارنے والے نام نہاد آزادی پسند ٹولہ ہے اور برمش کی ماں کے قاتل ایک بدنام زمانہ چور تھا ۔ ہم کب تک یہ دوہرہ پن دکھاتے رہیں گے ہمیں اب یہ منافقت کو ختم کرنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں