اسٹاک ایکسچینج پے حملے کا فائدہ کس کو ہوا


کالعدم بلوچ تنظیم بی ایل اے نے کراچی اسٹاایکسچینج پر حملہ کردیا۔ اسٹاک ایکسچینج پر موجود سیکیورٹی گارڈز کی بروقت کاروائی سے حملہ تو ناکام ہوگیا لیکن اس حملے نے بلوچستان کے لوگوں کے لئے اپنے پیچھے بہت سارے سوالات چھوڑے ہیں، جن کا جواب بلوچستان کا ہر شخص چاہتا ہے۔
کراچی اسٹاک ایکچینج پر جو حملہ ہوا اس کا فائدہ کس کو ہے؟ بلوچستان کے عوام کو تو اس کاروائی سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، یہ حملہ اگر کامیاب ہو بھی جاتا تب بھی بلوچستان کے لوگوں کو اس طرح کی کاروائیوں سے کوئی فائدہ نہیں پہنچنے والا ہے۔ البتہ پاکستان میں اندرونی طور پر انتشار پھیلانے کی جو کوششیں انڈیا میں ہورہی ہیں یا افغانستان کی میڈیا اس طرح کی کاروائیوں پر جس خوشی کا اظہار کررہی ہے اس سے اس بات کا اندازہ ہوسکتا ہے اس طرح کی کاروائیوں کا ہدایت نامہ کہیں اور سے وصول ہوجاتا ہے۔ان حقائق کو مدنظر رکھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب بلوچوں کے حقوق کی جدوجہد بلوچوں کی نہیں رہی۔ عالمی طاقتیں بلوچ خون کو استعمال کرکے پاکستان میں اندرونی طور پر انتشار پھیلانا چاہتے ہیں۔ بدقسمتی سے بلوچستان میں بنیادی حقوق کی عدم فراہمی کو جواز بنا کر شدت پسند تنظیمیں نوجوانوں کو اپنے ساتھ شامل کرتے ہیں۔ شدت پسند تنظیموں کے بیانیے میں نوجوانوں کو پرامن سیاست سے مایوس کرکے مسلح گروپوں میں شامل کرنے کی کوششوں کو مرکزیت حاصل ہے۔ نوجوان کو مسلح کرکے ان کی زندگیوں سے کھلینا بلوچوں کے حق میں اگر کوئی شخص بہتر سمجھتا ہے تو وہ حقائق سے انتہائی نابلد شخص ہی ہو سکتا ہے۔ عام بلوچ نوجوان جو پاکستان کے اندر رہ کر اپنی زندگیوں میں بہتری لانے کی جدوجہد کررہے ہیں، ان مسلح تنظیموں کی وجہ سے وہ بھی سیاسی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔
بلوچستان میں بدامنی کے جو منفی اثرات بلوچ معاشرے کے تمام طبقات پر پڑے ہیں وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ کاروبار سے لیکر تعلیم اور روز مرہ کی دیگر سرگرمیوں کو اس طویل اور بے نتیجہ بدامنی نے تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ جتنا یہ بدامنی طویل ہوتا جائے گا اس کے منفی اثرات بلوچ معاشرے پر شدید طور پر پڑھتے رہیں گے۔ جن بلوچوں نے حقوق کے لئے جدوجہد شروع کی تھی ایسا لگتا ہے اب ان کی یہ جدوجہد خود ان کے کنٹرول سے باہر ہے۔ اب ان جنگجوؤں کو ایک ایسی قوت کنٹرول کررہی ہے جس کا مقصد بلوچوں کی خوشحالی نہیں بلکہ پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنا ہے۔ افسوس اس بات پر ہوتی ہے کہ نام نہاد آزادی پسند بھی اب برضا و رغبت ایسی قوتوں کے ہاتھوں استعمال ہورہے ہیں۔ اگر ان علیحدگی پسندوں کو بلوچستان کے عوام کی کچھ فکر ہوتی تو وہ کسی دوسری قوت کے لئے اپنے لوگوں کو قربان کرنے کے بجائے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرکے اپنا سر پتھر سے ٹکرانا بند کردیتے۔ ان مسلح تنظیموں کے جن کمانڈرز نے حقیقت کو سمجھ لیا وہ دیر سے ہی سہی لیکن بندوق رکھ کر پرامن زندگی میں شامل ہوگئے، لیکن جو لوگ براہ راست عام لوگوں کی خون کا سودا کررہے ہیں ان کا مفاد بدامنی میں ہے اس لئے وہ نہیں چاہتے ہیں کہ بلوچستان کے لوگوں کے بنیادی مسائل حل ہوں اور بلوچستان میں امن و امان بحال ہو۔
بلوچستان میں گزشتہ بیس سالوں کی شدت پسندی اس بات کی گواہ ہے کہ لوگوں کو سوائے تکالیف کے ان شدت پسندوں نے اور کچھ نہیں دیا ہے۔ بلوچستان کے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ ان شدت پسند گروہوں کے خلاف کھل کر میدان میں آئیں، ان چند گروہوں کو یہ حق نہیں ہونا چاہئے کہ وہ کسی دوسری قوت کے فائدے کے لیئے بلوچ عوام کا نقصان کریں۔ کراچی جیسے واقعات کو نقصان لامحالہ طور پر بلوچستان کے لوگوں کو ہوگا، ان نقصانات سے بچنے کی واحد صورت یہی ہے کہ شدت پسندی کا خاتمہ کیا جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں