براہمداغ بگٹی اور بلوچ رپبلکن پارٹی کی اسرائیل سے قربت


بی آر پی یعنی بلوچ رپبلکن پارٹی، بلوچ رپبلکن آرمی کا سیاسی ونگ اس پارٹی کا سربراہ براہمداغ بگٹی ہے اور ماما قدیر کا بیٹا بھی اسی پارٹی کا ہی حصہ تھا. اس پارٹی کی جڑیں بذریعہِ ایران، اسرائیل سے بہت گہری جڑی ہیں، اسرائیل کے حوالے سے اکثر براہمداغ خود بھی بیانات دیتا آیا ہے.

19 جون 2016 کو بلوچ رپبلکن پارٹی کے جرمنی کے صدر جواد محمد بلوچ جو کہ کراچی میں پیدا ہوا اور بعد میں اپنے کالے کرتوت کے سبب سیاسی پناہ لیکر جرمنی میں رہائش اختیار کرلی، جواد محمد بلوچ کی ملاقات 19 جون 2016 کو امریکی شہر فرنکفرٹ میں ایک یہودی تہوار کے موقع پر شاول موفاز سے ہوتی ہے شاول موفاز سابقہ اسرائیلی وزیرِ دفاع رہ چکا ہے.

چلیں شاول موفاز بلکہ اسرائیلی آرمی کا لیفٹیننٹ جنرل شاول موفاز کا تھوڑا سا تعارف کروا دیتا ہوں، شاول موفاز ایران کے شہر تہران میں ایک کٹر یہودی گھرانے میں پیدا ہوا جہاں سے یہ اپنے والدین کے ساتھ اسرائیل آگیا، یہاں گریجویشن کے بعد موفاز نے اسرائیلی آرمی جوائن کی، متعدد جنگوں میں حصہ لیا اور اسرائیلی آرمی سے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پہ پہنچ کر ریٹائرڈ ہوا. بعد میں موفاز سیاست میں آیا اور اسرائیل میں اعلیٰ عہدوں پہ رہتے ہوئے اسرائیلی وزیر دفاع کے عہدے تک پہنچا.

جواد بلوچ نے اسی تہوار میں شرکت کی جس میں جواد بلوچ نے کھلم کھلا اسرائیل کی حمایت اور دوستی کا اعلان کرتا ہے کہ وہ اسرائیل سے دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے. باقی مسلمانوں کی طرح کچھ تنگ نظر بلوچ فلسطین کے سبب اسرائیل کو پسند نہیں کرتے لیکن بلوچوں کی اکثریت سیکولر سوچ کی حامل ہے.

فرنکفرٹ میں جواد بلوچ کے ساتھ ایک نوجوان عادل بلوچ کی ملاقات بھی موفاز سے ہوتی ہے وہ موفاز سے اپنا تعارف اس انداز میں کرواتا ہے کہ سر میرا نام عادل بلوچ ہے اور میرا تعلق بلوچستان سے ہے، بلوچستان کا نام سن سے موفاز مزید دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے عادل کو دوبارہ اپنے علاقے کا نام دوبارہ بتانے کا کہتا ہے عادل جواب دیتا ہے کہ میرا تعلق بلوچستان، پاکستان سے ہے. اس کے بعد موفاز نے اس نوجوان عادل بلوچ سے اس کا کارڈ لیا جس پہ اس کا پتہ، موبائل نمبر اور باقی معلومات درج تھیں بعد میں یہی موفاز عادل بلوچ کے ساتھ رابطے میں رہ کر بلوچستان کی معلومات لیتا رہا.

اس ملاقات کے دروان بلوچ رپبلکن پارٹی کے صدر جواد بلوچ نے موفاز سے کہا کہ ہم سیکولر سوچ رکھنے والے لوگ ہیں جبکہ پاکستان نے ہم پہ اسلام کو زبردستی لاگو کیا ہوا ہے ہم اسرائیل سے پیار کرتے ہیں اور اسرائیل کے ساتھ پرامن طریقے سے رہنا چاہتے ہیں (یہ بات ذرا مسنگ پرسنز والے غور سے پڑھیں) جواد بلوچ نے موفاز کو مزید بتایا کہ بلوچ رپبلکن پارٹی میں 20 سے 30 سال کے نوجوان شامل ہیں جو بلوچستان کو چھوڑ کر دوسرے ممالک میں سیاسی پناہ لیے ہوئے ہیں جو وقت آنے پر کام آسکتے ہیں. اس ملاقات کے اختتام پر موفاز نے جواد بلوچ کو رابطہ کرنے اور پاکستان کے خلاف ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کروائی.

کچھ وقت بعد اسی جواد بلوچ کی ملاقات اسرائیل جرمنی کانگریس نامی تنظیم کے چیئر پرسن سچا اسٹاوسکی سے ہوتی ہے، اسرائیل جرمن کانگریس ایک تنظیم ہے جو اسرائیل اور جرمنی کے درمیان تعلقات بہتر بنانے اور دونوں کے درمیان مشترکہ مفادات کےلیے کام کرتے ہیں، اسی تنظیم کے چئیرمین سچا اسٹاوسکی نے جواد بلوچ کو یقین دلایا کہ یہودی اپنے وعدہ کے پکے ہیں اس لیے وہ شاول موفاز پہ مکمل اعتماد رکھیں وہ اسرائیل میں جلد ہی بلوچستان کے حوالے سے ہر سطح پہ آواز اٹھائے گا، اس سلسلے میں موفاز براہمداغ بگٹی سے بھی ملنے جنیوا بھی جائے گا اور اسے اسرائیل آنے کی دعوت دے گا جہاں بلوچستان کے لیکر براہمداغ کے ساتھ ملکر کام کرنے کے خواہاں ہیں.

جون 2016 میں براہمداغ بگٹی نے اسرائیلی ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے بارہا کہا کہ ہم پرامید ہیں کہ اسرائیل پاکستان کے خلاف ہماری جدوجہد میں ہمیں ہر طرح سے بھرپور تعاون فراہم کرے گا ہم اسرائیل سے بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں اور سیکولر سوچ رکھتے ہیں.

اس سے پہلے بلوچ رپبلکن پارٹی کے ہی اہم عہدیدار اشرف شیر جان بلوچ بھی اسرائیل کے لیے ایسے ہی جذبات کا اظہار کرچکے ہیں، اشرف شیر جان دبئی میں مقیم رہنے کے بعد 2012 2013 کے درمیان سیاسی پناہ لیکر جرمنی میں شفٹ ہوگیا اور براہمداغ بگٹی کی سیاسی جماعت بلوچ رپبلکن پارٹی کا جرمنی میں صدر رہ چکا ہے. شیرجان دبئی میں بھارتی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر چکا ہے اس کی وجہ سے اسلام اور پاکستان سے دوری اور بھارت و اسرائیل سے قربت میں اضافہ ہوا.

جرمنی آنے کے بعد شیر جان نے اسرائیل سے پیار محبت کی پنگیں بڑھاتے ہوئےکہا کہ اسے معلوم ہے کہ سچ جھوٹ کیا ہے اور اسرائیل ایک حقیقت ہے وہ اسرائیل کا ساتھ دینے اور اسرائیل سے تعلقات رکھنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا اس کی خواہش ہے کہ بلوچستان جلد آزاد ہو اور بلوچستان کے لوگ اسرائیل کے ساتھ امن و بھائی چارے سے رہ سکیں.

اس کے علاوہ براہمداغ، جواد بلوچ اور بلوچ رپبلکن پارٹی کے اہم عہدیدارن اب بھی اسرائیلی وزارتِ دفاع کے اہم عہدیدران سے رابطے میں ہیں اور اسرائیلی وزارتِ دفاع کے لوگ براہمداغ سے ذاتی طور پر ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں جبکہ بلوچ رپبلکن پارٹی کے عہدیدارے یہودیوں کے مختلف تہواروں اور تقریبات میں بھی شریک ہوتے رہتے ہیں.

اب آپ خود اندازہ لگا لیجیے بلکہ مجھے بتا دیجیے کہ یہ بلوچوں اور پختونوں کے کونسے حققوق ہیں جو یا تو اسلام کے سب سے بڑے دشمن، بیت المقدس کے قابض، لاکھوں مسلمانوں کے قاتل اسرائیل سے ملتے ہیں یا پھر پاکستان اور مسلمانوں کےدشمن، لاکھوں پاکستانیوں اور کشمیریوں کے قاتل بھارت سے ملتے ہیں؟ کیا وجہ ہے بلوچوں اور پختونوں کے نام نہاد لیڈران کا رخ اسرائیل کی جانب ہی رہتا ہے چاہے وہ پی ٹی ایم ہو یا بلوچوں کے نام پہ بنی پاکستان دشمن سیاسی و عسکری جماعتیں؟

بلوچستان ہم شرمندہ ہیں ہم نے آنے میں بہت دیر کردی بہت وقت لگا دیا🙏

تحریر: #انوکھاسپاہی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں