کتنی مشکل زندگی ھے, کس قدر آساں ھے موت

گزشتہ دنوں عبدوئی بلیدہ اور تگران کے درمیان (چک آپ ) میں ایک بارودی سرنگ بم دھماکے میں ایف سی کے میجر شہید ندیم سمیت 6 اہلکار شہید ہوئے جسکی ذمہ داری منشیات سپلائی کرنے والے نام نہاد بلوچ آجوئی پسندوں کے ایک کالعدم تنظیم نے قبول کی ہے۔اس تنظیم نے بلوچ نوجوانوں کو منشیات جیسی موذی مرض میں مبتلا کرنے کیلئے ڈرگ مافیا سے مظبوط رشتہ قائم کیا ہوا ہے، میجر شہید ندیم صاحب کو ان کے مشن اور نیت کا ادارک تھا وہ چاہتے تھے کہ مکران کے اس مغربی پٹی میں جہاں سے نام نہاد آزادی پسند بلوچ تنظیموں کے تعاون سے منشیات اسمگلنگ ہوتی ھے وہ ان کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر ان کے کالے دھندے اور ان کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کیلیے میدان میں پیش قدم تھے ۔شہید میجر ندیم بھٹی صاحب نے بروقت بلوچ عوام کے ساتھ ایک مظبوط رشتہ برقرار رکھا ،لوگوں میں شعور پیدا کرنے کیلئے اس عظیم جانباز نے شہادت قبول کرکے نام نہاد آزادی پسندوں اور ڈرگ مافیا کو شکست سے دوچار کروایا ! شہید میجر ندیم بھٹی کا یہ عوامی اور قومی رویہ ان عوام دشمن ،قوم دشمن،علاقہ دشمن ،نوجوان دشمن،علم دشمن مظبوط مافیاز کو ناگوار گزرا تو ان لوگوں نے وطن عزیز کے اس جانباز میجر کو ایک بارودی سرنگ دھماکے میں چھ اہلکاروں کے ساتھ شہادت کے عظیم منصب پر پہنچایا۔رسوا اور مردار نام نہاد آجوئی پسندوں ،بیرون ملک کاسہ لیس اور ڈرگ مافیاز کے خلاف شہادت کے عظیم مرتبے کو اس عظیم جانباز وطن عزیز کے سپائی نے قبول کرکے وہاں نام نہاد آجوئی پسندوں اور ان کے کاسہ لیسوں کیلئے طبل جنگ بجا دیا ہے۔
پاکستانی قوم کو اس دن کا انتظار ہے جب شہید میجر ندیم بھٹی کے قاتل خدائی گرفت اور وطن دوست بلوچوں اور جانباز فورسز کے چنگل میں آئیں گے۔بلوچ نام نہاد آجوئی پسندوں نے بلوچ لیڈر شپ ،طلبا،دہقان اور مزدوروں کو قتل کرنے کے بعد اب ایک نیا گیم شروع کر دیا ہے اب وہ ڈرگ مافیاز سے منشیات چھین کر اپنے حمایتوں کو آسان قیمتوں میں سیل کرکے پیثے بیرون ملک آقاوں کے اکاونٹ میں جمع کر دیتے ہیں جن نوجوان منشیات کے موذی مرض میں مبتلا ہو کر اپائج ہو رہے ہیں۔
کیا یہ ان کی آزادی کی جنگ ہے یا نام نہاد ٹولے کی انا کی جنگ یا پھر منشیات چھین کر بھیجنے کی ؟ ؟
یہ چور لٹیروں کا ٹولہ منشیات فروشوں سے منشیات چھین کر پھر آسان قیمتوں میں بلوچستان کے مختلف علاقوں (جس میں سرفہرست مکران ) میں اپنے ہمدردوں اور سہولت کاروں کو آسان نیادوں پر منشیات فراہم کرکے بلوچ معاشرے کو جو پہلے ہی ان نام نہاد آجوئی پسندوں کے ظلم اور جبر کا شکار ہے، کو مزید بربادی اور تاریکی میں دھکیل دے رہے ہیں۔
ناکامی اور بربادی ان نام نہاد آجوئی پسندوں اور ان کے ہمدردوں کے نصیب میں لکھا ہوا ہے ،رب زوالجلال سے دعا ہے کہ وہ شہید میجر ندیم بھٹی کو جنت الفردوس اور سیاہ کارنامے والے ٹولے کو دوزخ میں پہنچا دے۔آمین ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں