نام نہاد بلوچ آزادی پسند لڑائی یا مسلح تنظیموں کی بلوچستان کے عوام پر ظلم کی انتہا ۔۔۔۔؟

بلوچ آزادی کی ناکام جنگ جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے کہ نام کا ہے البتہ نہاد میں باہر بیٹھے ہوئے لوگوں نے کافی کمایا ہے۔ لیڈر شپ قیادت خود بیرون ممالک میں جدید سہولیات سے آراستہ زندگی کے ساتھ عیاشی کررہا ہے مگر یہاں بلوچستان کے غریب عوام پر مختلف حربوں کے ذریعے ظلم کی انتہا کرروا رہا ہے ،جس جنگ کو ان مسلح تنظیموں نے آزادی کی جنگ قرار دیا ہے وہ غریب لوگوں پر ظلم کی انتہا کا جنگ ہے بلوچ نام نہاد آزادی تنظیموں نے پاکستان مخالفت کی آڈ میں بلوچ قوم کی نسل کشی کی ھے نام نہاد آزادی کی جنگ کی شروعات جس اعلی تعلیم یافتہ بلوچ سیاسی لیڈر شپ کو نشانہ بنا کر کیا گیا اور اس کے بعد ذاتی عداوت اور رنجشوں کی بنیاد پر اپنے سیاسی اور ذاتی مخالفین کو بے دردی سے شہید کیا گیا ۔
بلوچستان بھر میں ایک انارکی کی کیفیت پیدا کی گئی ،مزدوروں اور غریبوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے ،آجوئی نام نہاد تنظیموں نے لوگوں کے روز مرہ کے معاملات میں اثر انداز ہونا شروع کردیا اور لوگوں کےلئے وہاں اپنے گھروں میں جینا حرام کردیا اس کے بعد اس تنظیم نے سرکاری املاک،سیکیورٹی فورسز پر حملے بھی شروع کردئیے جن سے ایف سی کے بہت سے جوان اور افسران شہید ہوگئے ۔ریاست پاکستان نے پہلے دن سے ہی موقف اختیار کیا تھا کہ یہ آزادی کی جنگ نہیں ،بلکہ چند سرداروں اور نوابوں کے انا کی جنگ ہے ،جس سے عام بلوچ شدید متاثر ہوگا وقت نے خود کو سچ ثابت کر دکھایا ۔
ان تنظیموں میں جلد معمولی معمولی باتوں میں اختلافات پیدا ہوگئے جو اب تک جاری ہیں،پہلے بلوچ عوام میں ان آجوئی تنظیموں کے خوف سے تھوڑی بہت قدر تھی وہی اب گرکر صفر تک پہنچ گئی یے۔بلوچ عوام اب ان نام نہاد آجوئی پسند تنظیموں سے شدید نفرت کرتی ہیں یہ نفرت ان کی شرمناک کردار کی وجہ سے آج ہر بلوچ کے گھر،محلے اور بازار میں شدت کے ساتھ عیاں ہے۔ان نام نہاد آزادی کے جنگ لڑنے والوں سے آج بلوچ عوام انتہائی دوری اختیار کررہا ہے اور فطری طور پر پاکستان کو اپنا ہمدرد مانتے ہوئے پارلیمانی اور جمہوری سیاست کو اپنا مستقبل سمجھتے ہوئے جنگ و بارود کی سیاست کو یکسر مسترد کرچکے ہیں ۔
ان آزادی پسند تنظیموں نے بلوچ لیڈر شپ کو ہٹانے اور اذیت دینے کے بعد تعلیمی اداروں کو یرغمال بنانا شروع کردیا اور وہاں بھی بلوچ طلبا و طالبات کے زہنوں میں مسلح فلسفے کی تربیت دے کر بلوچ طالب علموں کے مستقبل کو تاریک بنانے ،بلوچ طالب علموں کو قلم کے بجائے کلاشنکوف تھمانے، جس سے مستقبل میں جس تعلیم یافتہ قیادت کی بلوچستان کو مختلف شعبوں میں ضرورت تھی ان کو ملیا میٹ بنانے میں ان نام نہاد مسلح آجوئی پسند تنظیموں کا بنیادی کردار رہا ہے جو غریب نوجوان تعلیمی اداروں تعلیم حاصل کرنے کے گرز پہ گئے تھے جو اپنے خاندان اور صوبے کی مستقبل تھے ان کو نام نہاد تنظیموں نے پہاڑوں کا راستہ دکھا کر ان کے زندگیوں کا خاتمہ کروا گیا۔
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ریاست کی طرف سے جاری ترقیاتی عمل کو سبوتاژ بنانے میں ان مسلح بلوچ تنظیمیوں نے مرکزی کردار ادا کیا ۔بلوچستان بھر میں اسکول،ہسپتال اور سڑکیں آج آپ کو نامکمل ملیں گے ،ان کی ذمہ داری یہی نام نہاد مسلح تنظیموں پر عائد ہوتی ہے ۔
ان تنظیموں نے بین الاقوامی ایجنڈے کی تکمیل کےلئے بلوچستان کے ترقیاتی عمل میں مستقل رکاوٹ ڈالا بلکہ ان کو کام ہی کرنے نہیں دیا گیا ،کیا یہ سوچ ترقی اور قوم دوستی کے زمرے میں آتی ہے! ہرگز نہیں! ان سیاہ کارناموں کے علاوہ نام نہاد آزادی پسند بلوچ تنظیموں نے جب دیکھا کہ انکے خلاف بلوچ عوام میں نفرت کی فضا قائم ہوگئی ہے تو مخبری اور دلالی کے نام پر بلوچ یوتھ کو نشانہ بنایا گیا،سینکڑوں کی تعداد میں طلبا کو بھی نشانہ بنایا نوجوان قتل کردئیے گئے جن سے انکی شیطانی اور طاغوتی سوچ کی عکاسی ہوتی ہے،آج بلوچ عوام ان حرکات کی وجہ سے نام نہاد آزادی پسند بلوچ تنظیموں سے اتنی شدید نفرت کرتی ہے کہ پہلے اسکول پریڈ میں بلوچی ترنم گایا جاتا تھا اور تالیاں ہوتی تھی مگر آج پاکستان کا قومی ترانہ گائے جانے کے بعد پاکستان کی استحکام کی تالیاں بجائی جاتی ہیں آج ہر بلوچ جوان بوڑھے ان نام نہاد آزادی پسند بلوچ تنظیموں سے اتنی نفرت کرتی ہے جس طرح ایک بیوہ اپنے شوہر سے ، آج بلوچ نام نہاد جنگ کی شو مکمل فلاپ ہوچکی ہے،کسان ،چروایا،مزدور ،پروفیسر،ڈاکٹر سب یک توار بن چکے ہیں کہ ہمیں بلوچستان میں بسے بے گناہ عوام کی قتل عام نامنظور ہے، نامنظور ہے۔
ان تمام واقعات اور شرمناک جرائم کے بعد آج نام نہاد بلوچ تنظیموں کیلئے کوئی ہمدردی اور حمایت بلوچ معاشرے میں بچا ہی نہیں ہے۔اگر آج کوئی بلوچ ان تمام نام نہاد آجوئی پسندوں کو دیکھ لیتا ہے ،تو ان کو خود مار دینے کی ہی کوشش کرتا ہے یا ان کو اپنے سے کوسوں دور بھگاتا ہے، بلوچ معاشرے میں تنظیموں کیلئے لفظ نفرت ہی بچا ہے ،ان کے جو آلہ کار بیرون ملک مقیم ہیں اور پاکستان کی سالمیت کے خلاف سازش کر رہے ہیں اور مراعات کیلئے برادرکشی کو مظبوط کررہے ہیں ان کو تو شرم اور حیا سے پانی میں ڈوب مرنا چائیے، ان کےلئے پوری شرم کا مقام ہے ان کےلئے حیرت کا مقام ہے ان کےلئے توبہ کا مقام ہے ان کےلئے نظر ثانی کا مقام ہے ان کےلئے چند پیسوں کی خاطر اپنے ملک اور صوبے کے خلاف سازش کرنے پر لعنت کا مقام ہے ۔
پاکستان زندہ باد
بلوچستان زندہ باد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں